ایران صرف منصفانہ اور جامع معاہدہ قبول کرے گا:عراقچی کا دوٹوک موقف

بیجنگ نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو ''جلد از جلد'' دوبارہ کھولیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں صرف ایک ''منصفانہ اور جامع معاہدے'' کو ہی قبول کرے گا۔یہ بات انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔

عراقچی نے اس موقع پر چین کو ایران کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

عراقچی نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایران مذاکرات کے دوران اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ خطہ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

وانگ یی نے ملاقات کے دوران کہا کہ چین اس جاری جنگ پر گہری تشویش رکھتا ہے اور فوری و مکمل جنگ بندی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

ان کے مطابق لڑائی کا جاری رہنا قابلِ قبول نہیں، جبکہ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا نہایت اہم ہے۔

انہوں نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد آبنائے ہرمز کو کھولیں تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو اور عالمی برادری کی ''محفوظ آمد و رفت'' کی اپیلوں کا احترام کیا جائے۔

چینی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے منصوبے چلانے کا جائز حق حاصل ہے۔یہ ملاقات بیجنگ میں ہوئی، جس کی تصدیق چینی خبر ایجنسی شِنہوا نے کی، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق عراقچی اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال پر بات چیت کے لیے گئے تھے۔یہ عراقچی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 28 فروری کو ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ہوا ہے۔

چین ایران کا بڑا تیل خریدار ہے اور امریکی پابندیوں کے باوجود تہران سے توانائی حاصل کرتا رہا ہے، جس سے امریکا کی کوششوں کو چیلنج درپیش ہے۔

اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز میں صورتحال بہتر ہو سکے،اور خبردار کیا کہ موجودہ حالات ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

اگرچہ چین اس تنازع میں عمومی طور پر غیر جانبدار مؤقف رکھتا ہے، لیکن وہ ایران کی خودمختاری پر حملوں کی مخالفت کرتا ہے اور ثالثی کی کوششوں میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جبکہ 7 اپریل کو امریکا نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا۔

11 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے، تاہم طویل المدتی معاہدے پر اختلافات کے باعث کوئی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔

بعد ازاں 21 اپریل کو امریکی صدر نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، لیکن ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کسی بھی یکطرفہ توسیع کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنے مفادات کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں