آبنائے ہرمز سے - 4 مئی (روئٹرز)
پاسداران انقلاب کی پسپائی... آبنائے ہرمز کا کھولا جانا ممکن ہونے کا اعلان
ٹرمپ نے "پروجیکٹ فریڈم" آپریشن معطل کر دیا جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے ہمراہی فراہم کرنا تھا
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے آج بدھ کے روز کہا ہے کہ جارحیت پسندوں کی دھمکیوں کے خاتمے اور نئے اقدامات کی روشنی میں آبنائے ہرمز سے محفوظ اور مستحکم گزر گاہ ممکن ہو جائے گی۔ یہ بات روئٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتائی ہے۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ نے خلیج عرب اور خلیج عمان میں جہازوں کے کپتانوں اور مالکان کا ایرانی ضوابط کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "پروجیکٹ فریڈم" آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے ہمراہی فراہم کرنا تھا، تاکہ ایران کی جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی افواج کا عائد کردہ محاصرہ برقرار رہے گا۔
بدھ کے روز امریکی ویب سائٹ "axios" نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے کی یاد داشت تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ واشنگٹن کو 48 گھنٹوں کے اندر تہران سے جواب کی توقع ہے۔ مزید یہ کہ ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا لیکن امریکہ اور ایران معاہدے تک پہنچنے کے لیے کسی بھی دوسرے وقت کے مقابلے میں زیادہ قریب ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
مذکورہ ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ امریکہ اہم نکات پر ایران کے جواب کا منتظر ہے۔ ویب سائٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران افزودگی روکنے کا پابند ہو اور امریکہ پابندیاں اٹھانے پر رضامند ہو۔ مزید یہ کہ یہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کو بھی یقینی بنائے گا۔
ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ معاہدے کی یاد داشت اپنی موجودہ شکل میں جنگ کے خاتمے اور 30 دن کے لیے تفصیلی مذاکرات کے آغاز کا اعلان کرے گی ... اور یہ کہ اب افزودگی روکنے کی مدت پر بات چیت ہو رہی ہے جو کم از کم 12 سال تک ہو گی۔
ویب سائٹ نے ایک امریکی اہل کار کے حوالے سے بتایا کہ معاہدے کی یاد داشت اپنی موجودہ شکل میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کرے گی۔ اہل کار نے تصدیق کی کہ امریکہ نے ایک ایسی شق شامل کی ہے جس کے تحت اگر ایران نے سطح بڑھائی تو افزودگی روکنے کی مدت میں اضافے کی اجازت ہو گی۔
نیز یہ کہ معاہدے کی یاد داشت مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک وضع کرے گی، جس کے تحت ایران معائنے کے ایک بہتر نظام کا پابند ہو گا۔ اسی طرح ایران اس معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے کا عہد کرے گا۔
ویب سائٹ نے دو با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم کو باہر نکالنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ ساتھ اس جانب اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنا زیرِ غور اختیارات میں سے ایک ہے۔