ایران اور امریکہ میں معاہدے کا مسودہ تیار، اکثر نکات پر اتفاق ہوچکا:پاکستانی ذرائع

ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں تمام معاندانہ اقدامات کے خاتمے کا ٹائم ٹیبل طے کر دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستانی ذرائع نے بدھ کے روز العربیہ اور الحدث کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور معاہدے کے مسودے کے اکثر نکات پر دونوں ممالک نے اتفاق کر لیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ معاہدے کا مسودہ تمام معاندانہ اقدامات کے خاتمے اور مذاکرات کے اگلے ادوار کے لیے ایک ٹائم ٹیبل وضع کرتا ہے۔ اس میں جنگ کا مکمل خاتمہ اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے نکات بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقین جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کرنے کے بہت قریب ہیں جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حال ہی میں امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف اور ایرانی حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے ہیں اور معاہدے کے مسودے میں افزودہ یورینیم اور ایران کے منجمد فنڈز کی واگزاری سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

ذرائع نے اشارہ دیا کہ ایرانی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار رکھنے کی خواہش نہیں رکھتے اور واشنگٹن نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے بارے میں سوچنا قبل از وقت ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے پیش کردہ تجویز کو تسلیم نہ کیا تو وہ دوبارہ زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ بمباری کریں گے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اس مفروضے کے تحت کہ ایران اتفاق کر لے گا تو آپریشن غضبِ ملحمتی (ایپک فیوری) کو ختم کر دیا جائے گا اور اسی طرح آبنائے ہرمز پر لگایا گیا وہ حصار جسے انہوں نے مؤثر قرار دیا ہے ایران سمیت سب کے لیے اٹھا لیا جائے گا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے تجویز مسترد کر دی تو گذشتہ سطح سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ بمباری کا دوبارہ آغاز کر دیا جائے گا۔

ادھر ایکسیوس ویب سائٹ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق جنگ ختم کرنے کے لیے ایک صفحے کی یادداشت پر پہنچنے کے قریب ہیں۔

ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ ایران 48 گھنٹوں کے اندر اہم نکات پر اپنا جواب دے دے گا۔

ایکسیس نے یہ بھی بتایا کہ معاہدے کے تحت امریکہ ایران کے منجمد فنڈز بتدریج واگزار کرے گا اور اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔

اسی طرح یہ یادداشتِ اتفاق زیادہ مفصل ایٹمی مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرے گی اور تہران ایٹمی معائنے کے ایک بہتر نظام کا پابند ہوگا۔

ایکسیس کے مطابق افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنا زیرِ غور اختیارات میں شامل ہے کیونکہ دو باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم باہر بھیجنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں