ایران کا طویل المدتی جنگ بندی اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ معاہدے کا مطالبہ

پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکہ کو بھیجے گئے نئے ایرانی مسودے کی اہم ترین شرائط منظرِ عام پر آ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایران کا تازہ ترین جواب فراہم کیے جانے کے ساتھ ہی کچھ ایسی اہم معلومات سامنے آئی ہیں جن سے ایران کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی مسودے کے خدوخال واضح ہوتے ہیں، جس میں متعدد نئی شرائط اور مطالبات شامل کیے گئے ہیں۔

العربیہ اور الحدث کو آج پیر کے روز حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق تہران نے ایک طویل المدتی اور کثیر المراحل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متوقع معاہدے کے لیے ایک ایسی سیاسی تحریر وضع کرنے کا کہا ہے جس سے اس کی نام نہاد ساکھ برقرار رہ سکے۔

ان معلومات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار اور محفوظ طریقے سے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ہرمز میں کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے پاکستان اور عمان کے کردار کی ضمانت مانگی ہے۔ ساتھ ہی بحری راستے کے معاملے کو جوہری فائل کی پيچيدگیوں سے الگ رکھنے پر زور دیا ہے۔

یورینیم کی روس منتقلی پر آمادگی

معلومات کے مطابق ایران نے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے طویل عرصے تک منجمد رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس کے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ 400 کلوگرام کے قریب تخمینہ شدہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو امریکہ کے بجائے روس منتقل کیا جائے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

جہاں تک جنگی نقصانات کے معاوضے کا تعلق ہے تو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایران اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اس کے بدلے معاشی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا تقاضا کیا ہے۔

ترمیم شدہ تجاویز امریکہ کے حوالے

یہ معلومات ایک باخبر پاکستانی ذریعے کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے ملک نے گذشتہ اتوار کی رات ایران کا ترمیم شدہ مسودہ امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے اشارہ کیا کہ دونوں ممالک مسلسل اپنی شرائط میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی وضاحت کی ہے کہ تہران نے اپنی حالیہ تجویز پر آنے والے امریکی تحفظات کا جواب واشنگٹن کو بھجوا دیا ہے۔

ایران کی گذشتہ تجویز کا پس منظر

واضح رہے کہ ایران کی گذشتہ تجویز جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا تھا، اس میں تہران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک منجمد اثاثوں اور فنڈز کی واگزاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس مسودے میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ کئی سالوں تک افزودگی معطل رکھنے کے معاملے سے قطع نظر ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا جائے، یہ وہ نکتہ ہے جس پر اب ایران نے لچک دکھانے کا اشارہ دیا ہے۔

اس سے قبل تہران نے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تہران نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس نہج پر واپس نہیں جائے گی جو گذشتہ 28 فروری کو ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ سے پہلے تھی، اس کے علاوہ ایران نے اپنی سرزمیں پر ہونے والے حملوں کے معاوضے کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں