تہران سے۔

واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں: ایرانی سفیر

پاکستان کی سفارتی کوششوں تیز، وزیر داخلہ محسن نقوی نے 24 گھنٹوں کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب سے دو بار ملاقات کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ کاظم جلالی نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر نیوز ایجنسی "تاس" کو بتایا کہ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ بات چیت کس مرحلے پر پہنچی ہے انہوں نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس ابھی تک کوئی درست معلومات نہیں ہیں اور مذاکرات کس مرحلے تک پہنچے ہیں اس بارے میں اب تک کوئی خبر نہیں ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا کوئی باضابطہ راستہ موجود نہیں ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی کہ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ عباس عراقچی نے یہ وضاحت بھی کی کہ ابھی تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستانی کوششیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایرانی فریق کے ساتھ جلد معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی تھی۔ لیکن انہوں نے جمعرات کو معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ معاہدہ کیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کا سب سے اہم نقطہ آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر عسکری طور پر یا کسی معاہدے کے ذریعے فتح حاصل کر لے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسی دوران پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے دو بار ملاقات کی ہے۔

اسلام آباد میں ’’ العربیہ ‘‘ کے رپورٹر نے بتایا کہ جوہری معاملے سے ہٹ کر بنیادی لٹکا ہوا نقطہ بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ ہفتوں سے ایران اور امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے افق پر امید کے آثار دکھائی دے رہے تھے، پھر یہ اطلاع ملی ہے کہ امریکی صدر نے زیر بحث تازہ ترین تجویز میں مزید سخت ترامیم متعارف کرائی ہیں اور تہران نے اس پر اپنا جواب نہیں دیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں