ایرانی جوہری پروگرام تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ سطح کا اندازہ نہیں: آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بین الاقوامی جوہری واچ ڈاگ ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری مواد کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس کی 'پرولیفیشن' کی سطح کیا ہے کیونکہ ہماری ایران میں ہر جگہ رسائی نہیں ہے۔

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی جوہری ادارے کو تعمیری مقاصد کے لیے اپنے ساتھ جڑنے کا موقع دے۔ بین الاقوامی جوہری ادارے 'آئی اے ای اے' کے سربراہ رافیل گروسی متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد بدھ کی شام سعودی عرب پہنچے تھے۔ جہاں انہوں نے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی۔

بین الاقوامی جوہری ادارہ ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی میں جنگی ماحول پیدا ہونے کے باعث رسائی میں ناکام ہے۔ یہ سلسلہ 12 روزہ جنگ جو پچھلے سال جون میں لڑی گئی تھی اس وقت سے اسی طرح جاری ہے۔ 12 روزہ جنگ کے دوران بھی امریکہ و اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات کو ٹارگٹ کیا تھا۔

ایرانی جوہری تنصیبات کو اب 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران مخالف امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران بھی بطور خاص نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دوران بھی بین الاقوامی جوہری ادارے نے بار ہا کوشش کی ہے کہ اسے ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہو۔

تاہم جوہری ادارہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ امریکی و اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ایران کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے ایک غیر مثالی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ لہذا جوہری ادارے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایک ایسی کوشش کرے جس کے نتیجے میں یہ تصدیق ہو سکے کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں موجودہ حالات میں کیا ہیں۔ یہ بات جوہری ادارے کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

جوہری ادارے کی یہ رپورٹ اس کے بورڈ آف گورنرز میں اگلے ہفتے زیر بحث آنے والی ہے۔ 2025 جون میں امریکہ کے حملوں سے پہلے جوہری ادارے نے یہ تخمینہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام افزودہ یورینیئم موجود ہے۔ جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے اور وہ 90 فیصد افزودگی کے قریب تک پہنچ گئی ہے جو کہ جوہری بم بنانے کے لیے ضروری ہے۔

2015 کے جوہری معاہدے میں ایران کو صرف 3.67 فیصد یورینیئم افزودگی کا حق دیا گیا تھا۔ لیکن امریکہ کی طرف سے معادہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد ایران نے بھی یکطرفہ طور پر اپنا یورینئیم افزودگی کا سلسلہ غیر معمولی طور پر بڑھا دیا۔ جون 2025 کی امریکہ و اسرائیل کی ایران مخالف جنگ کے بعد سے ایران نے عالمی جوہری ادارے کو بھی رسائی سے انکار کر رکھا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ادارے کو تعمیری مقاصد کے لیے تنصیبات تک رسائی دے۔ تاکہ بین الاقوامی جوہری ادارہ سیف گارڈز کا اہتمام کر سکے۔

خیال رہے امریکہ و ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے میں بھی ایرانی جوہری پروگرام کو اولیت حاصل ہے۔ تاہم ایران نے اب تک کی معلومات کے مطابق امریکہ کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر کے تیل کی ترسیل و برآمد کا سلسلہ بحال کیا جائے اور اعتماد سازی کے نتیجے میں بعد ازاں جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا۔

تہران کی طرف سے اس امر کا بھی مسلسل انکار کیا گیا ہے کہ اس کا جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کا جوہری پروگرام صرف سول ضروریات کے لیے ہے اور اس کے مقاصد توانائی کے متبادل بندوبست تک محدود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں