ایرانی وزیر خارجہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کےلیے کل اتوار کو اسلام آباد پہنچیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ایک اعلیٰ سطحی وفد کل اتوار کو پاکستان پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ ایرانی وفد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے متعلق فنی مذاکرات کی نگرانی کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی اس ٹویٹ کو دوبارہ شیئر کیا ہے جس میں 24 گھنٹوں کے اندر معاہدے پر دستخط کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جو سنہ 2025ء کے 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں مہینوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں اور معاہدے کا حتمی متن تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں اور توقع ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اب معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیار ہے جس کی توقع آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہے اور اس کے بعد ہفتے کے دوران فنی سطح پر بات چیت ہو گی۔

پاکستانی وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکہ اور تہران کے درمیان یہ تاریخی معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے دوران مسلسل عزم کے لیے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خطے میں اپنے بھائیوں کی حمایت پر ان کے گہرے مشکور ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ دیرپا امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔

تاہم ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حتمی خاتمے کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر امریکہ کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ہمیں دستخط کی صحیح تاریخ جاننے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔ یہ اتوار کو نہیں ہوگا اور امکان ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں طے پائے۔

یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس نے مشرق وسطیٰ میں تباہ کن بحران کو جنم دیا اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد، خاص طور پر ایران اور لبنان میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، نیز عالمی معیشت کی بنیادیں بھی ہل گئیں۔

آٹھ اپریل سنہ 2025ء کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے کشیدگی میں کمی آئی تھی تاہم ایران پر امریکی بمباری اور خلیجی عرب ممالک میں ایرانی حملوں سمیت وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی، جبکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی میزائل حملوں اور فضائی بمباری کے ساتھ علیحدہ کشیدگی جاری رہی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں