ایران نے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو الگ تھلگ کر دیا:امریکی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سی این این نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے ذخیرہ گاہی مقام کو الگ تھلگ کر دیا ہے۔

اس مقصد کے لیے سرنگوں کو منہدم کیا گیا اور بارودی سرنگیں بچھائی گئیں، جس کے باعث تقریباً نصف ٹن افزودہ یورینیم تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مواد کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پیچیدہ کھدائی اور بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی کارروائی درکار ہوگی، جس سے تہران کو وقت حاصل کرنے یا معاملات کو طول دینے کا موقع مل سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے مزید بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے بعد غالب امکان ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق مزید تکنیکی مذاکرات بھی کیے جائیں گے۔

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایسی صورت حال کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔ یہ معلومات منصوبہ بندی سے آگاہ امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یہ منصوبے امریکی وزارتِ دفاع اور وزارتِ توانائی کے باہمی تعاون سے تیار کیے گئے ہیں۔

ان منصوبوں میں وزارتِ توانائی کی خصوصی ٹیمیں فوجی یونٹوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی، جبکہ مختلف ممکنہ منظرناموں میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کا سراغ لگانے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے طریقۂ کار بھی شامل ہیں۔

حکام نے واضح کیا کہ یہ بات چیت کسی فوجی کارروائی کے فیصلے کی عکاس نہیں، بلکہ معمول کی فوجی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔دریں اثنا، بلومبرگ نے انٹیلی جنس جائزوں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران ان میزائل گوداموں اور لانچنگ پلیٹ فارمز تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے جو ملبے تلے دب گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے دوران ایران نے غالباً اپنے ذخائر میں جدید روسی ہتھیار بھی شامل کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں