USA and Iran flag together on a cracked wall. stock illustration

ایران کا دیگر امور میں آگے بڑھنے سے پہلے مفاہمت کی 5 شقوں پر عمل درآمد کا مطالبہ

العربیہ نے دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی تفصیلات حاصل کر لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’ العربیہ‘‘ چینل نے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے اس حالیہ دور کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں جو قطری دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوا ہے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے "العربیہ" کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ایک سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا، اس اجلاس میں مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کو تیز کرنے کی حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان قطر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں لبنان اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر بحث کی گئی۔ ایران نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ لبنان میں اپنی افواج کو برقرار رکھ کر مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ذرائع نے تصدیق کی کہ ایران نے دوحہ مذاکرات میں مفاہمت کی یادداشت پر مقررہ وقتی مراحل میں عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور دیگر امور کی طرف بڑھنے سے پہلے اس کی 5 شقوں پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کر دیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ تہران نے دوحہ مذاکرات میں "منجمد اثاثوں" کی شقوں پر عمل درآمد پر بھی توجہ دلائی۔ ’’ العربیہ ‘‘کے ذرائع نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ایران نے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی اور انہیں مرکزی بینک کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے"۔

اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ ایران نے دوحہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا بشرطیکہ اس کے ساتھ کوآرڈینیشن کی جائے۔ ایران نے اس بات پر اصرار کیا کہ آبنائے ایرانی اور عمانی خودمختاری کے تابع ہے کیونکہ اس نے اپنی اجازت کے بغیر ہرمز میں کسی بھی بحری جہاز رانی کے راستے کو مسترد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق ایک دوسرے سیاق و سباق میں تہران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی ) کی پابندی کا اظہار کیا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ساتھ تعاون کے عزم کی بھی تصدیق کی۔

اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ 3 تکنیکی ٹیموں نے دوحہ میں بحری سکیورٹی اور جوہری معاملے کے مسائل پر بحث کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے اپنے منجمد فنڈز کی رہائی کے بدلے مزید تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ تہران کو جو رقم ملے گی وہ غذائی اشیاء کی خریداری کے لیے مختص ہوگی۔

اعلیٰ ذرائع نے "العربیہ" سے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ پاکستان اور قطر نے تہران اور واشنگٹن واپس جانے سے پہلے ایک عارضی مفاہمت کے لیے دباؤ ڈالا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں