یمن میں حوثی سیل کا نیٹ ورک بے نقاب، العربیہ کے نامہ نگار کے قاتل گرفتار

دو رکنی سیل کے ارکان کو حراست میں لے لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں نیشنل ریزسٹنس کی انٹیلی جنس نے حوثی ملیشیا کی جانب سے چلائے جانے والے ایک نئے ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی ایک ایسے سیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جو فوجی شخصیات کے قتل اور انہیں نشانہ بنانے میں ملوث تھا۔ یہ ایک ماہ کے دوران اس نوعیت کی دوسری بڑی کارروائی ہے جو ملیشیا کے سکیورٹی نیٹ ورک کا سراغ لگانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

نیشنل ریزسٹنس کے ملٹری میڈیا نے ہفتے کے روز بتایا کہ جنرل انٹیلی جنس نے عبوری دارالحکومت عدن میں ریاستی سکیورٹی کے ادارے کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد حوثی ملیشیا کے لیے کام کرنے والے ایک ٹارگٹ کلنگ سیل کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ تیسرے رکن کی تلاش جاری ہے۔

ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ سیل کے ارکان نے المکلا شہر میں العربیہ اور الحدث چینلز کے نامہ نگار محمد عیضہ کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عبوری دارالحکومت عدن میں بریگیڈیئر صلاح الصلاحی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کیا ہے۔

ملٹری میڈیا کے مطابق یہ آپریشن نیشنل ریزسٹنس کی انٹیلی جنس کی جانب سے بریگیڈیئر یحییٰ وحیش کے قتل کے ذمہ دار سیل کو بے نقاب کرنے کے بعد عمل میں آیا۔ اس کے بعد انٹیلی جنس نے بریگیڈیئر صلاح الصلاحی کو ورغلانے کے لیے حوثی نقل و حرکت کی نگرانی کی۔ بریگیڈیئر الصلاحی گذشتہ ماہ چھٹی پر المخا شہر سے قاہرہ گئے تھے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

رپورٹ کے مطابق الصلاحی جن کی قیادت میں پہلے الصماد بریگیڈ کام کرتی تھی اور بعد ازاں وہ حوثیوں سے الگ ہو کر نیشنل ریزسٹنس میں شامل ہو گئے تھے انہیں حوثی عناصر کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں۔ کال کرنے والوں نے خود کو عفاش طارق کا نمائندہ ظاہر کر کے انہیں پھنسانے اور قتل کی کارروائی کرنے کی کوشش کی۔

مزید بتایا گیا کہ نیشنل ریزسٹنس کی انٹیلی جنس نے بریگیڈیئر الصلاحی کو ہدایت دی کہ وہ سیل کے ارکان کے ساتھ رابطے برقرار رکھیں تاکہ ایک مضبوط سکیورٹی منصوبے کے تحت ان کے ارکان کا پتہ لگایا جا سکے اور انہیں گرفتار کیا جا سکے۔ اسی دوران عدن کے ایک ہوٹل میں ملاقات طے پا گئی۔

ملاقات کا وقت طے ہونے کے بعد انٹیلی جنس نے عدن میں ریاستی سکیورٹی ادارے کو مطلع کیا جس نے موقع پر چھاپہ مار کر سیل کے دو ارکان کو گرفتار کر لیا جبکہ سکیورٹی ادارے تیسرے رکن کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ کارروائی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ حوثی ملیشیا اب بھی آزاد کرائے گئے علاقوں میں فوجی اور میڈیا شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے خفیہ سیلوں کا سہارا لے رہی ہے تاکہ سکیورٹی اور استحکام کو متزلزل کیا جا سکے۔ تاہم انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کی بیداری نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا اور ان نیٹ ورکس کے ایک حصے کو بے نقاب کر دیا جنہیں ملیشیا اپنے سکیورٹی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں