یمنی حوثیوں کے حملے میں 14 سرکاری فوجی ہلاک: اہلکار

حوثی 2015 سے حکومت کے ساتھ تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بندرگاہی شہر الحدیدہ کے جنوب میں ایک حملے میں 14 فوجیوں کو ہلاک کر دیا، یہ بات ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے منسلک ایک فوجی اہلکار نے اتوار کو اے ایف پی کو بتائی۔

اہلکار نے بتایا کہ "ہفتے کی صبح کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں" حکومت کی حامی افواج نے الحدیدہ کے جنوب میں واقع ضلع حیس میں حملہ پسپا کر دیا۔

انہوں نے مخالف گروہ کے ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں بتائے بغیر مزید کہا کہ "لڑائی کے نتیجے میں (حوثی) صفوں میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔"

حوثی باغیوں کا یمن کے دارالحکومت صنعاء اور شمال کے بیشتر حصے بشمول یمن کے مغربی بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع الحدیدہ پر کنٹرول ہے جب کہ جنوب کا بڑا حصہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے پاس ہے۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے 2022 میں جنگ بندی کے بعد سے فریقین کے درمیان لڑائی بہت حد تک منجمد ہو چکی ہے۔

لیکن جمعہ کے روز حوثیوں نے عدن میں مقیم یمنی حکومت کے ایک اہم حمایتی سعودی عرب کے ائیرپورٹس اور اہم اثاثہ جات پر حملوں کی دھمکی دی۔

اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایران کے "محورِ مزاحمت" میں شامل باغی گروپ نے مملکت پر ایک ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size