نیٹو کی ایران پر امریکی حملوں کی حمایت، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اتحادی ممالک انقرہ میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنے کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ایران کے خلاف امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیاں انتہائی ضروری تھیں۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ رکن ممالک کے رہنما آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت کا اعادہ کریں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے اہداف پر امریکا کے تازہ حملوں کوانتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں پر نیٹو قیادت کا یہ پہلا واضح مؤقف ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
اختلافات انفرادی نوعیت کی ہیں
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ ایران سے نمٹنے کے معاملے پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان وسیع پیمانے پر اختلافات کی بات درست نہیں۔
ان کے مطابق بعض رکن ممالک کے مؤقف پر امریکی تحفظات "صرف انفرادی نوعیت کے معاملات" تک محدود ہیں، جبکہ امریکا بدستور نیٹو کے اندر مشترکہ تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔
مارک روٹے کے مطابق یہ بیان حالیہ مہینوں میں واشنگٹن اور نیٹو کے مستقبل کے تعلقات سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے دیا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعاون بدستور مضبوط ہے۔
خطے میں شدید کشیدگی
مارک روٹے کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطہ غیر معمولی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ امریکا نے ایران کے فوجی اہداف پر نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ تہران نے جواب میں آبنائے ہرمز کے اطراف امریکی تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دونوں ممالک ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت اسی اہم بحری گزرگاہ سے ہوتی ہے۔
نیٹو کا مؤقف ہے کہ اگر یہاں جہاز رانی میں خلل پڑا تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اتحاد کے اندر بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کی حمایت میں اتفاقِ رائے بڑھ رہا ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر سیاسی اور فوجی دباؤ برقرار ہے، جبکہ میدان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
گرین لینڈ کا تنازع
دوسری جانب ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے ایک بار پھر گرین لینڈ کی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے انقرہ میں کہا کہ مملکتِ ڈنمارک اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گی، جس طرح نیٹو اپنی تمام رکن ریاستوں کے ہر انچ علاقے کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل اس مؤقف کے اعادے کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ امریکا کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم فریڈرکسن نے اس کے جواب میں واضح کیا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کے قیام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کسی ایک رکن ملک کو خطرہ لاحق ہو تو تمام اتحادی اس کے مشترکہ دفاع کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔