میں نے سپین سے امریکی تجارت منقطع کرنے کا حکم دیا ہے: ٹرمپ کا نیٹو سربراہی اجلاس میں بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز میڈرڈ کو اتحاد میں شامل ایک "خوفناک شراکت دار" قرار دیتے ہوئے نیٹو سربراہی اجلاس میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو سپین کے ساتھ تمام تجارت منقطع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ٹرمپ نے انقرہ میں سربراہی اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری جنرل نیٹو مارک روٹے کے ہمراہ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپین کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتے۔

ٹرمپ نے بارہا سپین سے مایوسی کا اظہار کیا ہے جس نے نیٹو کے نئے دفاعی اخراجات کے لیے جی ڈی پی کے پانچ فیصد کو ہدف بنانے سے اتفاق نہیں کیا اور اس کی سوشلسٹ قیادت نے امریکہ کو ایران جنگ کے لیے اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین پر فوجی مراکز استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

"سپین کسی بھی بات سے متفق نہیں ہے اور آپ کو ان کی حمایت نہیں کرنی چاہیے،" ٹرمپ نے روٹے کو بتایا۔

"میں ان سے کوئی تجارت نہیں کرنا چاہتا، ٹھیک ہے؟" انہوں نے بیسنٹ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا جنہوں نے جواب دیا: "جی جناب۔"

ٹرمپ نے مزید کہا، "اس پر فوراً عمل کریں، ان سے بات بھی نہ کریں۔ وہ ناامید ہیں۔ وہ برے لوگ ہیں۔ وہ ہم سے بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ وہ بہت کم کمائیں گے۔ میں ان کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا۔"

امریکہ کے سپین میں دو اہم فوجی مراکز ہیں: نیول سٹیشن روٹا اور مورون ایئر بیس۔

ایک امریکی اہلکار نے اپریل میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ پینٹاگون نے ایک اندرونی ای میل میں امریکہ کے لیے نیٹو اتحادیوں کو سزا دینے کے ممکنات کا خاکہ پیش کیا جو اس کے خیال میں ایران سے جنگ میں امریکی کارروائیوں کی حمایت کرنے میں ناکام رہے۔ ان ممکنات میں سپین کو اتحاد سے معطل کرنا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں