اسرائیلی وزیر مالیات بتسلئیل سموٹرچ (آرکائیو فوٹو - فرانس پریس)

اس وقت ایران کی جنگ میں شامل ہونے میں اسرائیل کا کوئی مفاد نہیں ہے : سموٹرچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری محاذ آرائی میں شامل ہونے میں "اسرائیل کی اس وقت کوئی دل چسپی نہیں ہے"۔ کسی بھی اعلیٰ اسرائیلی ذمہ دار کا یہ اب تک کا واضح ترین موقف ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تل ابیب اس مرحلے پر لڑائی سے باہر رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

آج منگل کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان محدود محاذ آرائی اسرائیل کے لیے بہترین صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے ملک کا بنیادی ہدف ایرانی حکومت کو کمزور کرنا ہے اور معاشی دباؤ اس مقصد کے لیے سب سے موثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے مزید اشارہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی تہران پر دباؤ میں اضافہ کرے گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ایران نے خلیجی ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اردن میں امریکی افواج پر ایرانی حملوں کے باوجود تل ابیب نے فی الحال براہ راست لڑائی سے گریز کیا ہے، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے براہ راست حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

رپورٹوں کے مطابق تل ابیب نے امریکہ کو مشترکہ کارروائی کی پیشکش کی تھی، تاہم واشنگٹن نے محاذ آرائی کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل کی شرکت کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ مداخلت صرف براہ راست حملے کی صورت میں ہو گی۔

دوسری جانب اسرائیلی انٹیلی جنس کا ماننا ہے کہ ایران نے گذشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ کے بعد ہزاروں سینٹری فیوجز کو "کوہِ پیکیکس" کے اندر گہری سرنگوں میں منتقل کر دیا تھا، تاکہ جوہری پروگرام کی دوبارہ تعمیر کی جا سکے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے یہ انٹیلی جنس معلومات امریکہ کے حوالے کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان عارضی مفاہمت کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں تناؤ کے بعد سے خطے میں مسلسل کشیدگی پائی جاتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں