لبنانی صدر جوزف عون امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر بات کریں گے کہ جنوب سے اسرائیل کے انخلاء کے بعد لبنان کا کیا وژن ہو گا۔ ان کی تیاریوں سے واقف ایک ذریعے نے العربیہ کو بتایا۔
"عون کے فریم ورک میں ایک فوجی منصوبہ کے ساتھ ساتھ سماجی اقتصادی امکانات بھی شامل ہیں،" ذریعے نے کہا۔
عون گذشتہ سال صدر منتخب ہونے سے پہلے لبنانی فوج کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ تقریباً 20 سالوں میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے اولین لبنانی سربراہِ مملکت ہیں جہاں وہ پہلی بار ٹرمپ سے روبرو ملاقات کریں گے۔
یہ ملاقات لبنان کے لیے ایک اہم موقع پر ہو رہی ہے جب: اسرائیلی فوجی ملک کے جنوب میں ایک حصے پر قابض ہیں، اسرائیلی حملوں کے بعد لاکھوں لبنانی بے گھر ہیں اور حزب اللہ نے اسرائیل سے حکومت کے براہِ راست مذاکرات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
عون ہفتے کے آخر میں واشنگٹن پہنچے اور اتوار کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں انہیں بتایا، لبنان اور اسرائیل کے درمیان 26 جون کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے مطابق اسرائیل کو جنوبی لبنان سے انخلاء شروع کر دینا چاہیے۔
اس معاہدے کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار واپسی اور دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کا ماحول تیار کرنا ہے۔
عون کی ٹرمپ سے ملاقات سے چند گھنٹے قبل لبنانی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خالی کردہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا - یہ اس منصوبے کی پہلی آزمائش ہے۔
-
اسرائیل کے مسئلے پر امریکی ڈیموکریٹک پارٹی میں تقسیم شدت اختیار کر گئی
گزشتہ ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کے لیے امریکی فنڈنگ روکنے کی ایک ...
بين الاقوامى -
عہدیدار: اسرائیلی انخلاء کے بعد جنوبی قصبے میں لبنانی فوج تعینات ہے
امریکی ثالثی منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج کے علاقے سے انخلاء کے بعد لبنانی فوجی ...
مشرق وسطی -
نیدرلینڈ 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کی مصنوعات پر پابندی لگا دے گا
نیدرلینڈ کی حکومت نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے ...
مشرق وسطی