ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار 4 اکتوبر 2014 کو کوئٹہ میں کار بم دھماکے کے بعد جائے وقوعہ کے پاس سے گزر رہا ہے۔ فائل فوٹو رائیٹرز]

تربت:20 مزدوروں کی ہلاکت، وزیر اعظم کی فوری تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 20 مزدور جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔

یہ مزدور تربت کے علاقے میں ’’سہراب پل‘‘ کی تعمیر کے منصوبے پر کام کر رہے تھے کہ جمعہ اور ہفتے کی رات دو بجے نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر فائرنگ کر دی۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کا تعلق صوبہ سندھ اور پنجاب سے ہے۔

بلوچستان میں اس سے قبل بھی تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والوں خصوصاً دوسرے صوبوں سے آ کر مزدوری کرنے والوں پر ہلاکت خیز حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

گذشتہ اکتوبر میں بھی ساکران کے علاقے میں کم ازکم آٹھ مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا اور بعد ازاں ان کی لاشیں قریبی پہاڑیوں سے برآمد ہوئی تھیں۔

واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی فرد یا گروہ نے تسلیم نہیں کی ہے لیکن حکام اس کا الزام کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں پر عائد کرتے آئے ہیں۔

تحقیقات کا حکم

وزیراعظم نواز شریف نےتربت واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیدیا ۔وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ذمے داروں کو کٹہرے میں لائیں۔

دوسری طرف سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالماک بلوچ گوادر کا دورہ مختصر کرکے تربت پہنچ گئے۔

ترجمان وزیر اعلی بلوچستان کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت میں مزدوروں کے قتل کی مذمت کی ہے۔ا نہوں نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور انتظامیہ کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں