پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین سات اگست 2024 کو اسلام آباد، پاکستان میں عرب نیوز پاکستان سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (اے این)

عراق کے ساتھ خصوصی زیارت پاسپورٹ پر کام جاری ہے: پاکستان

ایک طریقہ خصوصی پاسپورٹ ہے جو صرف زیارت کے لیے استعمال ہو: وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور نے اس ہفتے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان عراقی حکام کے ساتھ زائرین کی نقل و حرکت کی نگرانی اور اسے باقاعدہ بنانے میں بہتری کے طریقوں پر کام کر رہی ہے۔ ان میں خصوصی پاسپورٹ جاری کرنا بھی شامل ہے جو صرف زیارت کے مقصد کے لیے استعمال ہوں۔

بعض مقدس ترین مسلم مقامات عراق میں ہیں خاص طور پر شیعہ برادری کے لیے جن میں مزارات کے شہر نجف اور کربلا شامل ہیں جہاں عراق اور دنیا بھر سے روزانہ ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔ ان میں نجف میں امام علی کا مزار شامل ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام کی قبر ہے جو پیغمبر اسلام (ص) کے داماد اور خلافت راشدہ کے چار خلفائے راشدین میں سے ایک ہیں۔ ایک اور مزار کربلا میں پیغمبر کے نواسے امام حسین کا ہے جو شیعہ مسلمانوں کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔ حرمِ حسین کی سالانہ اربعین زیارت کو دنیا کا سب سے بڑا عوامی اجتماع سمجھا جاتا ہے جس میں لاکھوں لوگ کربلا آتے ہیں۔

گذشتہ ماہ عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے بارے میں اس وقت شہ سرخیاں شائع ہوئیں جب وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سالک حسین کی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بریفنگ کے دوران یہ بات بڑے پیمانے پر رپورٹ کی گئی کہ کم از کم 50,000 پاکستانی زائرین کے ایسے کیسز تھے جو عراق کے سفر پر گئے اور لاپتہ ہو گئے۔ "

اس ہفتے عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں حسین نے واضح کیا کہ انہوں نے بریفنگ میں "لاپتہ" کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "میں [زائرین کے بارے میں] کبھی بھی لاپتہ کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔ وہ لاپتہ نہیں ہیں، وہ بنیادی طور پر غیر مجاز لوگ ہیں جو زیارت کے لیے جاتے ہیں اور پھر زیادہ وقت کے لیے قیام کر لیتے ہیں۔"

وزیر نے وضاحت کی کہ کئی لوگ زیارت کے ویزے پر گئے تھے اور وہاں ملازمتیں مل جانے کی امید پر یا ٹریول ایجنٹوں کے گمراہ کرنے کے بعد عراق میں ہی رک گئے جنہوں نے انہیں یورپ یا دوسرے ممالک میں ملازمت دلانے کا وعدہ کیا تھا:

"شاید 30,000 پاکستانی اب بھی وہاں [عراق میں] پانچ سے سات سالوں سے موجود ہوں گے کیونکہ ان میں سے کئی واپس آئے ہیں۔"

حسین نے کہا، حکومت اب پاکستانی زائرین کے دوروں کو منظم اور بہتر نگرانی کرنے کے لیے ایک پالیسی پر کام کر رہی ہے جس میں خصوصی پاسپورٹ کے ذریعے سفر بھی شامل ہے۔

وزیر نے کہا، "ہم پہلے ہی عراقی حکومت کے ہمراہ ایک منصوبہ تیار کر رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو باضابطہ بنایا جائے اور ایک قانونی حیثیت دی جائے جو وہاں پہلے سے مختلف فارموں، دکانوں، کارخانوں اور مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید بتایا، "ہم بہت جلد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے والے ہیں جو بیرونِ ملک تمام سفر اور زائرین کو منظم کرے گی تاکہ ہم ان کی بہتر نگرانی کر سکیں۔ چند طریقے زیرِ غور ہیں۔ ہم خصوصی پاسپورٹ جاری کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو صرف ایک دفعہ سفر کے لیے اور صرف زیارت کے لیے ہو گا اور پھر وہ پاسپورٹ کہیں اور استعمال نہیں ہو سکے گا۔"

حج 2025

اگلے سال حج کی تیاریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسین نے کہا، سعودی عرب نے حج 2025 کے لیے پاکستان کے تقریباً 180,000 عازمین کے کوٹے کی منظوری دی ہے۔

وزیر نے وضاحت کی، "سعودی حکومت کی طرف سے واقعی حج اور عمرہ کے نظام کو اپ گریڈ کیا گیا ہے خاص طور پر حج کے لیے۔ انہوں نے ایک سادہ سا فارمولا بنایا ہے جو پہلے آئیے، پہلے پائیے کی [پالیسی] کی بنیاد پر ہے: ہمارے پاس یہ جگہ ہے، اگر آپ پہلے آ جائیں تو آپ کو اچھی جگہ ملتی ہے، اگر آپ دیر سے آتے ہیں تو ہمارے پاس یہ آپشنز ہیں۔"

چوہدری نے مزید کہا کہ اگلے سال کے لیے پریشانی سے پاک حج کو یقینی بنانے کی غرض سے تمام تیاریاں پہلے سے کی جا رہی تھیں۔

انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی تمام نجی حج تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ رہائش، ذرائع آمد و رفت اور کھانے کے معاملے میں پہلے سے خود کو تیار رکھیں۔ یہ تمام چیزیں پہلے سے اچھی طرح تیار ہونی چاہئیں تاکہ ہمیں سعودیہ کی طرف سے اچھی سہولیات مل سکیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "حج کی بات ہے تو ہم [سعودی وزارتِ حج اور سفارت خانے کے ساتھ] مل کر [مذہبی امور] کی وزارت کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں