عرب پکوان: پاکستانی دارالحکومت میں شائقین کے دل اور زبان تک راستہ بنانے میں کامیاب
شرقِ اوسط کے مشہور پکوان شوارما، فلافل، فطائر، حُمؐص یہاں دستیاب ہیں
اس ماہ کے شروع میں اسلام آباد کے لبنانی ریسٹورنٹ عربیکانا میں کھانے کے شوقین محمد کاشف ریاض نے چکن اور مندی چاولوں کا ایک بڑا چمچ اپنے منہ میں بھرا اور پھر فطائر کے ایک ٹکڑے کے لیے ہاتھ بڑھایا جو پالک، پنیر اور گوشت سے بھری ہوئی ایک چھوٹی سی مثلث شکل کی پیسٹری ہوتی ہے۔
یہ پکوان شرقِ اوسط میں مقبول ہیں اور پاکستانی دارالحکومت میں بھی کئی عرب ریستورانوں پر دستیاب ہیں جو جنوبی ایشیائی قوم میں کھانوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
عربیکانا خاص طور پر 2022 سے صارفین کو شرقِ اوسط کے پکوان پیش کر رہا ہے جس کے مینو میں شوارما، مندی، فطائر اور فلافل جیسی اشیاء شامل ہیں۔
ریاض نے کہا کہ انہیں سعودی عرب اور آسٹریلیا کے دوروں کے دوران ان کھانوں کا ذوق پیدا ہوا تھا۔
ریاض نے مزید مندی چاولوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "یہاں لوگ شرقِ اوسط کے کھانوں سے واقعی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔" مندی چاول ایک یمنی کھانا ہے جس میں بنیادی طور پر گوشت اور چاولوں کو مصالحہ جات کی ایک خاص آمیزش کے ساتھ ایک گہرے گڑھے میں پکایا جاتا ہے۔
عربیکانا کی ایف-سیون ایریا برانچ میں کھانا کھاتے ہوئے ریاض نے مزید کہا، "کھانا کافی اچھا ہے۔ ہم نے اس عربی کھانے کو آسٹریلیا میں آزمایا ہے، پھر سعودی عرب میں بھی اور اب ہم دوسری بار یہاں [عربیکانا] آئے ہیں۔"
عربیکانا میں ایک شوارما کی قیمت 800 روپے (2.90 ڈالر) ہے جبکہ فطائر پیسٹری کی قیمت 1200 روپے (4.35 ڈالر) ہے۔ مندی کا ایک فرد کا کھانا 1300 روپے (4.75 ڈالر) میں مل جاتا ہے۔
عربیکانا کے مینیجر فضل ہادی نے کہا کہ ریستوران کے مالکان "مستند" عرب کھانے پاکستان کے دارالحکومت میں لانا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فرمان علی نامی پاکستانی شیف کی خدمات حاصل کیں جو سعودی عرب میں تقریباً ایک عشرے تک کام کر چکے تھے اور شرقِ اوسط کے کھانوں خاص طور پر لبنانی پکوان کے ماہر تھے۔
علی نے کہا، "یہ کھانا صحت بخش ہے اور لبنانی کھانے کی اصل کشش اس کے صحت بخش اجزاء کے استعمال میں ہے جن میں زیتون کا تازہ تیل، سیاہ مرچ، زیرہ اور لیموں شامل ہیں۔"
ہادی نے کہا کہ 2022 میں اسلام آباد میں کام شروع کرنے کے اقدام کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے اور ریستوران نے حال ہی میں دارالحکومت میں ایک اور دکان کھولی ہے۔
ہادی نے کہا، "ہمیں گاہکوں کی طرف سے [ایف-سیون میں] اتنا اچھا جواب ملا کہ دو سال کے اندر ہم نے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایف-10 مرکز میں ایک اور برانچ کھول لی۔"
اکثر بیرونِ ملک سفر کرنے والے کاشف انور جن میں سعودی عرب اور دیگر جگہوں کے دوروں میں عرب کھانوں کا ذوق پیدا ہوا، نے کہا: اسلام آباد میں عرب ریستوران خاص طور پر مندی بیچنے والے مقبول ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ان کا شوارما اور فلافل خاص طور پر بہت اچھا ہے، ہم اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور آج ہم یہاں مندی چاول کھانے آئے ہیں۔"
ایک اور مقبول جگہ اسلام آباد کے ایف-سیون علاقے میں ارز لبنان ہے جو 2016 میں کھولی گئی تھی اور تب سے صارفین کا ایک مستقل سلسلہ یہاں آتا ہے۔
گاہک روح اللہ خان نے کہا کہ کھانے کی مقبولیت کا ثبوت یہ تھا کہ ریسٹورنٹ رات گیارہ بجے تک بھرا ہوا تھا۔
خان نے کہا، "سالوں پہلے میرے خیال میں یہ اسلام آباد میں کھلنے والے پہلے عرب ریستورانوں میں سے ایک تھا۔ "اس سے پہلے لوگ عربی کھانوں سے واقعی واقف نہیں تھے۔"
اسلام آباد کے علاقے ایف-10 میں ہاؤس آف عربی مندی گذشتہ سال کھلنے کے بعد سے چاول کی روایتی ڈش فروخت کر رہا ہے۔
دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ مندی کے آرڈر کا انتظار کرنے والے محمد حسن نے کہا، "پہلے بہت کم عربی ریستوراں تھے۔ لیکن اب ان کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی لوگ واقعی عرب کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔"