کراچی میں سمندری طوفان کے انتباہ کے پیشِ نظر ہوائی جہازوں کی منتقلی کا حکم جاری
شہر میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا امکان، بجلی منقطع اور سکول بند
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے ایئرپورٹ حکام نے ہفتہ کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام طیاروں کو سمندری طوفان کے انتباہ کی بنا پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے جولائی میں سیزن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 285 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دن کے آغاز میں پاکستان کے محکمۂ موسمیات (پی ایم ڈی) نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں بننے والا سمندری طوفان اسنا مغرب کی طرف بڑھ گیا تھا۔
بھارت کے رن کچھ کے ساحل پر بننے والے موسمی نظام کے نتیجے میں ایک گہرا دباؤ پیدا ہوا جو جمعہ کو شدت اختیار کرتے ہوئے سمندری طوفان میں بدل گیا۔ پی ایم ڈی نے کہا کہ یہ کراچی سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا اور اس کے مغرب سے جنوب مغرب کی طرف بڑھتے رہنے کا امکان تھا۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا، "ایئر پورٹ پر عمومی ہوابازی کے علاقے میں کام کرنے والی ایئر لائنز، گراؤنڈ ہینڈلنگ اور ایوی ایشن کمپنیوں کو مکمل چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کراچی میں طوفانی بارشوں کے باعث طیاروں کو محفوظ مقامات پر کھڑا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔"
نیز بیان میں کہا گیا، "تمام ہوا بازی کمپنیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے تمام اثاثہ جات کی حفاظت کریں۔ طوفانی بارشیں آئندہ چند روز تک جاری رہنے کی توقع ہے۔"
پاکستان میں جولائی کے آغاز سے ہی مون سون کی بارشیں جاری ہیں جن کی وجہ سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بلوچستان میں 29، خیبرپختونخوا میں 88، پنجاب میں 106، سندھ میں 50، گلگت بلتستان میں چار اور آزاد جموں کشمیر میں آٹھ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
دن کے وقت پی ایم ڈی الرٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ شدید بارشوں سے مکران ساحل کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ سکتے ہیں اور سمندری حالات خراب رہنے کا امکان ہے۔
پی ایم ڈی نے سندھ اور بلوچستان صوبوں کے ماہی گیروں کو ہفتے کے روز سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا۔
اس نے مزید کہا، "کراچی میں پی ایم ڈی کا طوفان کا انتباہی مرکز موسمی نظام کی قریب سے نگرانی کر رہا ہے اور اسی کے مطابق اپ ڈیٹ جاری کرے گا۔"
جمعہ کو کراچی میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتِ حال پیدا ہو گئی جس کے باعث شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور سکول بند ہو گئے۔