پاکستان حکومت کا بغداد ایئرپورٹ پر پھنسے شہریوں کی آج وطن واپسی کی یقین دہانی

یہ افراد پروازوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پھنس گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان نے جمعہ کی رات تصدیق کی کہ عراق ایئرویز کی پروازوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کے تقریباً 650 شہری بغداد ہوائی اڈے پر پھنسے ہوئے ہیں جبکہ حکام نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہفتے کے دن ان کی وطن واپسی کا وعدہ کیا ہے۔

ہزاروں پاکستانی سالانہ مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے عراق جاتے ہیں۔

پھنسے ہوئے زیادہ تر پاکستانی اس ماہ اربعین کی زیارت میں شرکت کے لیے عرب ریاست گئے تھے جو پیغمبرِ اسلام (ص) کے نواسہ حضرت امامِ حسین کی شہادت کے سوگ کے 40ویں دن کے موقع پر ہوتی ہے۔ حضرت امامِ حسین اپنے خاندان کے بیشتر افراد کے ہمراہ 680 عیسوی میں کربلا میں شہید ہو گئے تھے۔

دفترِ خارجہ نے ایک مختصر بیان میں کہا، "عراق ایئرویز کے دو طیاروں میں فنی خرابی کی وجہ سے 654 پاکستانی زائرین اس وقت بغداد ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ وزارتِ خارجہ، وزارتِ ہوابازی اور عراق میں پاکستانی سفارت خانہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی کے لیے عراقی حکام اور عراق ایئرویز سے رابطے میں ہیں۔"

بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بغداد میں پاکستانی سفارت کاروں کو ان افراد کا خیال رکھنے کی ہدایت کی۔

علاوہ ازیں بیان میں کہا گیا، "ان زائرین کی واپسی آج رات شروع ہونے کی امید ہے۔ دو میں سے پہلی پرواز پاکستانی وقت کے مطابق رات 1200 بجے بغداد سے روانہ ہو گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام پھنسے ہوئے مسافر 31 اگست 2024 تک واپس آجائیں گے۔"

ایک الگ بیان میں پاکستان کے سفیر محمد ذیشان احمد نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی کہ امیگریشن حکام کی بدانتظامی کی وجہ سے 50 سے زائد پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ ضائع ہو گئے۔

وزارتِ مذہبی امور کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا، "پاسپورٹس غائب ہونے کی خبریں غلط ہیں۔ یہ تمام صورتِ حال سیاحتی کمپنیوں کی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔"

انہوں نے کہا، 350 پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو کل رات کراچی پہنچنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، "وہی طیارہ واپس جا کر بقیہ زائرین کو آج [ہفتے کی] صبح کراچی لائے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں