OIC Moot in Cameroon

کیمرون: او آئی سی اجلاس میں پاکستان کا غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ کیمرون میں 'او آئی سی' کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعہ کے روز بتایا ہے۔

دوروزہ اجلاس میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اجلاس وزرائے خارجہ کونسل کا بتایا گیا ہے۔جو 29 اور 30 اگست کو جاری رہا۔

پاکستان نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینیوں کے مصائب کا حوالہ دیا۔علاوہ ازیں دنیا بھر میں تنازعات پر روشنی ڈالی۔

اعلیٰ پاکستانی سفارت کار 'او آئی سی' کی رائے میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جنگی مہم اور اسلام کے مقامات مقدسہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی اور بے حرمتیوں کا جواب دینے کا حکم دیا ہے۔

سیکرٹری خارجہ پاکستان نے کہا چالیس ہزار سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ تقریباً 20 لاکھ بے گھر ہو گئے ہیں۔

دفتر خارجہ نے سجاد قاضی کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے فروری طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس جنگ کو پورے مشرق وسطیٰ تک نہ پھیلنے دیا جائے۔ مزید یہ کہ اسرائیل کو ایران ، لبنان اور دیگر مسلم ریاستوں کی خود مختاری کے خلاف کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

واضح رہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا تھا ، پاکستان نے اس لیے اپنے بانی کی اس رائے کے احترام اور اصولی موقف کی بنیاد پر اسرائیل کو آج تک تسلیم کیا ہے نہ ہی اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ ایسے بہت سارے دوسرے مسلم ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ فلسطین کی سرزمین پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

57 کے قریب مسلم ممالک کی اس ایک بڑی تنظیم نے جب بھی اجلاس منعقد کیا ہے عاملی اداروں سے غزہ میں فوری جنگ بندی اور غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

کیمرون میں دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں سیکرٹری خارجہ پاکستان نے دنیا کے کئی ملکوں میں بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کو مسلم دنیا کے بڑے چیلنج کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں