2 جولائی 2025 کو بنائی گئی تصاویر کے کولاج میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی حاجی عمران خان (بائیں) سعودی عرب کے مکہ مکرمہ کے کنگ عبداللہ ہسپتال میں علاج کر رہے ہیں۔ (عمران خان)
پانچ مرتبہ دل کی دھڑکن کی بندش کا شکار ہونے والے پاکستانی حاجی سے ملیے
یوم عرفہ کے موقع پر جب سب عازمین حج سخت گرمی میں میدان عرفات میں کھڑے تھے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک حاجی عمران خان گر گئے اور ان کے دل کی دھڑکن رک گئی۔ مگر دوران حج یہ ان کے ساتھ ایک بار نہیں بلکہ پانچ بار ہوا۔
اس صورت حال کی اطلاع ملتے پر سعودی حکام نے فوری سرگرمی دکھاتے ہوئے انہی ایئر ایمبولنیس کے ذریعے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر د یا۔
پانچ بار اس غیر معمولی صورت حال سے دوچار ہو کر بچ جانے والے حاجی نے اسے نئی زندگی کے ملنے سے تعبیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ قرار دیا۔
پاکستان کے ضلع بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ عمران خان کا دیرینہ خواب تھا کہ وہ حج ادا کریں۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے رواں سال اپنی اہلیہ کے ساتھ عازم حج ہوئے۔
پانچ جون کو عرفات کے مقام پر گرمی کی خوب شدت کا دن تھا۔ جہاں عمران کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کے بعد مشرقی عرفات ہسپتال لے جایا گیا۔
جہاں ان کا دل متعدد بار بند ہوا، ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں شاہ عبداللہ میڈیکل سٹی مکہ لے جایا گیا تاکہ علاج ماہرینِ امراض قلب سے کرایا جا سکے۔ الحمد للہ وہ علاج کے بعد صحتیاب ہو گئے۔
عمران خان نے صحت یاب ہونے کے بعد بات کرتے ہوئے کہاا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا زندہ بچ جانا اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہی ممکن ہوا ۔ یہ مجھے ایک نئی زندگی کا ملنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حج کے آغاز سے ہی میرں اللہ سے شدت کے ساتھ یہ دعا کر رہا تھا کہ میں حج کو مکمل صحت کے ساتھ مکمل کروں اور اللہ نے میری اس دعا کو شرف قبولیت بخشی ہے۔
انہوں نے مزید کہا اگر میرے ساتھ پاکستان میں ہوا ہوتا تو شاید ایسا خیال رکھنا وہاں ممکن نہ تھا اور شاید میں زندہ نہ رہ پاتا۔
عمران خان نے بتایا کہ انہیں شوگر کی معمولی شکایت ہے تاہم امراض قلب کا وہ کبھی شکار نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ خطبہ حج کے موقع پر انہیں سینے میں درد ہوا تھا پھر قے آئی اور وہ بیہوش ہو گئے ۔
کئی روز بعد جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس روز میرا دل پانچ مرتبہ بند ہوا تھا۔ انہوں نے مملکت میں نظامِ صحت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں طبی سہولیات عالمی سطح کی ہیں۔ جو قابل تعریف ہے۔ یاد رہے سعودی ہسپتالوں میں ان سے ایک پیسہ بھی علاج کی فیس کے طور پر وصول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اپنی اہلیہ کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس موقع پر بڑی ہمت دکھائی اور میرا ساتھ دیا۔
عمران نے وہ آٹھ جولائی کو وہ پاکستان واپسی کا سفر کریں گے کیونکہ ڈاکٹروں نے اب انہیں سفر کے قابل قرار دے دیا ہے۔
پاکستانی حج مشن کے مطابق رواں سال 239 پاکستانی حاجیوں کو دوران حج سعودی حکومت کی جانب سے طبی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔ ان میں سے پانچ ابھی تک ہسپتالوں میں داخل ہیں، اور ان میں سے 4 کی حالت نازک ہے اور وہ وینٹیلیٹرز پر ہیں۔