بنوں شہر میں 19 جنوری 2014 کو سکیورٹی قافلے پر بم حملے کے بعد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ (اے ایف پی/فائل)
پاکستانی پولیس: شمال مغرب میں فائرنگ کے تبادلے میں دو عسکریت پسند ہلاک
ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا گشت پر مامور پولیس کی گاڑی پر حملہ
پاکستان کے ضلع بنوں میں پولیس نے پیر کے روز کہا کہ اس نے گھات لگا کر کیا گیا ایک حملہ ناکام بنا دیا اور گولیوں کے شدید تبادلے کے دوران دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس وقت اسلام آباد شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں دہشت گردوں کے حملوں میں اضافے کے مسئلے سے دوچار ہے۔
پولیس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بنوں میں ڈومیل پولیس سٹیشن کے دائرہ اختیار میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) یا پاکستانی طالبان گروپ سے وابستہ دہشت گردوں نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا۔
پولیس وین گشت پر تھی کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے جو ضلع کی کمپنی روڈ کے قریب انتظار کر رہے تھے، اچانک پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملے کے بعد دونوں طرف سے تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے، "فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور ان کے قبضے سے ہتھیار برآمد ہوئے"۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد پولیس نے علاقے میں تلاشی مہم شروع کر دی جس کے دوران دونوں دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے علاقے کے خلیفہ گل نواز (کے این جی) ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
بنوں کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سجاد خان نے لوگوں کی زندگیاں بچانے اور "دہشت گردی کے خلاف ہر قیمت پر ثابت قدم رہنے" کے لیے پولیس کے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا، "دہشت گردی کو بالکل برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے تحت فتنہ الخوارج کے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گا اور امن و امان کی خرابی میں ملوث افراد کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا"۔
بنوں میں ماضی قریب میں کئی دہشت گرد حملے ہوئے ہیں اور اس ماہ کے شروع میں ضلع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں حکومت کی حامی ایک امن کمیٹی کے چار ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ 2025 میں بنوں پولیس نے کہا کہ اس نے تھانوں، چوکیوں اور اپنے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے 134 حملے ریکارڈ کیے۔ کم از کم 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ حکام نے کہا کہ جھڑپوں میں 53 دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے۔