عالمی لیبر مارکیٹ کے مباحثوں میں سعودی عرب کا قائدانہ کردار
سعودی وزیر برائے انسانی وسائل نے مہارتوں کو نکھارنے اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا
سعودی عرب کے وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی، انجینئر احمد بن سلیمان الراجحی نے کہا ہے کہ سعودی عرب لیبر مارکیٹ سے متعلق عالمی مباحثوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
آج پیر کے روز "ہم مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں" کے عنوان سے منعقدہ "انٹرنیشنل لیبر مارکیٹ کانفرنس" کے تیسرے ایڈیشن کے افتتاحی خطاب میں وزیر نے کہا کہ یہ کانفرنس ایک مکالمہ فورم سے ترقی کر کے اب ایک با اثر عالمی پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ الراجحی نے مہارتوں کو نکھارنے اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وزیر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خادم حرمین شریفین کی سرپرستی میں اس کانفرنس کا انعقاد کام کے مستقبل سے متعلق عالمی مکالمے کی حمایت اور عالمی سطح پر لیبر مارکیٹس کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مملکت کے بین الاقوامی عزم کا عکاس ہے۔
وزارتِ انسانی وسائل کے بیان کے مطابق انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کانفرنس ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم ہے جہاں تمام فریق تجربات کے تبادلے اور مشترکہ ویژن کی تعمیر کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد ایسی پالیسیاں تیار کرنا ہے جو زیادہ لچک دار اور جامع ہوں، افرادی قوت کی تیاری کو بہتر بنائیں اور اقتصادی ترقی اور معیارِ زندگی کے درمیان توازن پیدا کریں، جو سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
اس سال کانفرنس میں وسیع بین الاقوامی شرکت دیکھی جا رہی ہے، جس میں 100 ممالک سے 10,000 سے زائد شرکاء، 40 سے زائد وزرائے محنت، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 50 سے زائد مکالمہ نشستوں میں 200 سے زائد مقررین حصہ لے رہے ہیں۔
یہ کانفرنس 26 اور 27 جنوری 2026 کو شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہو رہی ہے، جس کا اہتمام وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے کیا ہے۔ اس میں عالمی ادارہ محنت، ورلڈ بینک، یو این ڈی پی، اور مسک فاؤنڈیشن جیسی اہم بین الاقوامی تنظیموں کی تزویراتی شراکت داری شامل ہے، جو اس کانفرنس کے عالمی تشخص کو مزید تقویت دیتی ہے۔