امریکی اور ایرانی پرچم بشکریہ آئسٹاک
ایک تاریخی مگر بے نتیجہ مذاکراتی اجلاس، اب کیا ہو گا؟
کئی دہائیوں میں یہ پہلی بار ہوا کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ عہدے دار براہ راست آمنے سامنے آئے اور بالمشافہ ملے۔ بلاشبہ سفارتی اعتبار سے بہت بڑی تبدیلی بھی ہے اور پیش رفت بھی۔ جس کا مظاہرہ اسلام آباد میں دیکھنے کو ملا۔ اس سے قبل جب بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تو یہ طریقہ رہا کہ فریقین بالواسطہ ہی بات چیت کرتے اور اپنی بات ایک دوسرے تک پہنچاتے رہے۔
اب اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے اس طویل مذاکراتی اجلاس کو ایک تاریخی نوعیت کی ملاقات کہا جائے گا، کہ یہ مذاکراتی عمل بیس گھنٹوں سے بھی زیادہ جاری رہا۔ مگر دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچے بغیر واپس چلے گئے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ اس مذاکراتی خاتمے کا سبب ایرانی جوہری پروگرام بطور خاص بنا۔
اس کے باوجود پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات کو کم اہم اور بے وقعت نہیں کہا جا سکتا۔ خواہ وقتی طور پر ان کے نتیجے میں کوئی ڈیل ممکن نہیں ہو سکی۔ لیکن یہ ضورور ہوا ہے کہ آنے والے دنوں میں براہ راست سفارت کاری کا دروازہ کھل گیا ہے۔ اب کئی دہائیوں سے چلی آرہی رکاوٹوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
'امریکہ و ایران کے درمیان گہری خلیج'
مذاکرات کی حالیہ ناکامی دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے بنیادی اور ناقابل اصلاح قسم کے اختلافات بنے ہیں۔ ان میں سے ایک ایرانی جوہری پروگرام بڑی رکاوٹ بنا ہے۔
امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روک دے۔ نیز یورینیئم افزودگی کے نظام کو مستقلاً بند کر دیا جائے۔ امریکہ کے نزدیک اس سے کم کسی بھی چیز کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی سہولت اور موقع دے دیا گیا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہے۔
امریکہ قطعاً راضی نہیں ہو سکا کہ ایران کو یورینیئم افزودگی کی اجازت دے، جبکہ ایران کا متواتر یہ موقف رہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کا حصول اس کا حق ہے۔ یوں دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے میں بد اعتمادی کا معاملہ بہت گہرا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے براہ راست مذاکرات کسی فیصلے تک پہنچنے میں بھی یہی سب سے بڑی رکاوٹ رہی۔
اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ بھی دو طرفہ اتفاق کی راہ میں رکاوٹ بنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تہہ در تہہ تنازعے کی وجہ سے ہی فوری طور پر کسی معاہدے پر دستخط مشکل ہوئے۔
'اور پھر ٹرمپ کی طرف سے بحری ناکہ بندی'
مذاکرات کا فوری طور پر نتیجہ نہ آ سکنے کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان جاری کر دیا۔ ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کیے جا چکنے کے بعد زمین پر فوج اتارنے، ایک رات میں پوری تہذیب کو تباہ کر دینے کے اعلانات کے بعد یہ نیا اعلان بھی خوفناک رہا۔ خوف کی لہر کا پھیلنا فطری ہے۔ کہ ایک جانب امریکہ کی بحری طاقت اور دوسری جانب تباہ شدہ بحریہ کا حامل ایران، لیکن شکرہے کہ یہ اعلان عملی طور پر بامعنی نہیں رہا۔ بلکہ اس سے عملی صورت یہ معلوم ہوئی کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کشتیوں اور تیل بردار جہازوں کو روکنے کے لیے بروئے کار آئے گی جو ایران کو آبنا سے گذرنے کا 'ٹیرف' ادا کریں گے۔ نیز امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کی بحریہ کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرے گی۔
یقیناً یہ ایک خطرناک کام ہوگا، مگر ایران کے لیے اس کے اثرات گہرے اور دوررس ہوں گے۔ ایران کے لیے سیاسی چیلنج بڑھیں گے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا دعویٰ کمزور ہو جائے گا۔ نیز یہ کہ ایران کے لیے اس کے اقتصادی اثرات بھی تباہ کن ہوں گے کہ اس کی معیشت پہلے ہی پابندیوں اور بمباری نے اڑا کے رکھ دی ہے۔ افراط زر، مہنگائی تو جنگ سے پہلے ہی دکانداروں اور تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دینے والی سطح کو چھو چکی تھی۔
اب آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے بعد ایرانی تیل کی بچی کھچی فروخت اور تجارت بھی ختم شد ہونے کو پہنچ گئی۔ ناکہ بندی اور محاصرہ نئی چیز نہیں، یہ معاشی اور اقتصادی اعتبار سے بھی ماضی میں کیا جاتا رہا ہے اور اس کے اثرات ہمیشہ تباہ کن رہے ہیں۔ تازہ ترین ناکہ بندی اسرائیل کی جنگی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ اب ایران کی باری ہے۔ یہ ناکہ بندی تو ایران کو عالمی منڈیوں سے کاٹ کے رکھ دے گی۔ مگر یہ معاشی اثرات و خطرات صرف ایران تک نہیں رہ سکیں گے۔
'معاشی دباؤ اور عالمی مضمرات'
ایرانی معیشت تو پہلے ہی غیر معمولی اور انتہائی دباؤ کی زد میں ہے۔ اب مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق امریکہ نے ایرانی معیشت کی تباہی کے لیے بحری ناکہ بندی کی ترکیب نکال لی ہے۔ کرنسی کے کمزور ہونے سے حکومتی آمدنی میں کمی ہوتی ہے۔ ملکوں کے اندر عوامی بے اطمینانی اور بد امنی کے بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ناکہ بندی ملک کے توانائی کے شعبے اور اہم ترین برآمد کو بھی پامال کر دے گی۔
حتیٰ کہ معاشی تباہی کے اثرات کا دائرہ محض ایران تک محدود نہ رہے گا۔ آبنائے ہرمز کیونکہ دنیا بھر میں توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اس لیے اس سے عالمی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے۔ کہ اسی آبی گزرگاہ سے دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا بیس فیصد گزرتا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی سے یہ سب بھی متاثر ہوگا۔ اس تباہی کی حکمت عملی کی زد دوسری کئی معیشتوں پر بھی پڑے گی، پوری دنیا متاثر ہوگی۔ اس سے قطع نظر کہ یہ ناکہ بندی ایران نے کی ہوگی یا امریکہ نے۔ فوری اثر تویہ آیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھی ہیں۔
'پہلا منظر: کشیدگی بڑھنے اور تجدید جنگ'
ایک ممکنہ راستہ تو جنگی کشیدگی میں اضافے کا ہے۔ اگر ایران نے بھی جواب فوجی اور جنگی طریقے سے دینے کا فیصلہ کر لیا اور امریکی ناکہ بندی کے لیے آئی کشتیوں کو ہدف بنانا شروع کر دیا، ان پر میزائل داغنے شروع کر دیے اور ڈرون حملے ہونے لگے تو جنگ بندی جس کے بیچوں بیچ امریکہ نے فائدہ اٹھا کر ناکہ بندی کی ہے ایرانی کارروائیوں سے وہ جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔ پھر امریکہ کا رد عمل آئے گا اور جنگ پھیلنے لگے گی۔
ایران کے پاس بھی کچھ غیر متناسب طرز کی لڑنے کی صلاحیتیں ہیں۔ ان میں ایران کی تیز بھاگنے والی کشتیاں بھی شامل ہیں، ڈرون طیارے بھی ہیں۔ جن میں سے بہت سے اس جنگ میں پہلے کام آچکے ہیں۔ اس لیے کشیدگی تھمنے یا رکنے کے بجائے اور اوپر جانے احتمال فطری ہے۔ کہ جب ایران جوابی کارروائیاں کرے گا تو امریکہ بھی اپنا رد عمل دے گا۔ خصوصاً جب آبنائے ہرمز میں جنگی میدان سجے گا تو وہ بہت خطرناک ہوگا۔
'دوسرا منظر : کشیدگی اور کھلی ٹرانزٹ کا انتظام'
یہ منظر نسبتاً پر امیدی پر مبنی اور احتیاط سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا تعلق اس امید سے ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کے بحری جہازوں کو بحفاظت گزرنے کی اجازت دے دے۔ یہ فریم ورک بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ نقل و حمل کو بحال کرنے اور سنگین اختلافات اور تنازعات کو روکنے کا ذریعہ بنے گا۔
مگر یہ اپنی جگہ حقیقیت ہے کہ صرف آبنائے ہرمز کے کھل جانے سے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ تو طے نہیں ہو سکے گا۔ جو بجائے خود وسیع تر کشیدگی اور تنازعے کا سبب ہے۔ ہاں آبنائے ہرمز کی حد تک بہتری آنے سے علاقے میں استحکام آنے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی صورت ضرور پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ منظر نامہ اس پہلو سے بھی مفید ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ اور ایران دونوں کو 'فیس سیونگ' ملنے کی امید ہو گی۔ مزید یہ کہ امریکہ کو جہاز رانی کے راستے کھلنے کے کا یقین ہونے کی کامیابی ملے گی۔ اسی طرح ایران کو بھی امریکی مطالبات تسلیم کیے بغیر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کا موقع ہے۔ تاہم یہ بھی اپنی جگہ حقیقیت ہے کہ یہ راستہ عارضی حل کا ہو سکتا ہے۔ جبکہ نمایاں کیے گئے تنازعات اور امور حل طلب رہیں گے۔
ایک اور اہم سوال جو ہر جگہ موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں کتنے عرصے تک ناکہ بندی کا ماحول برقرار رکھ سکے گا۔ کہ اسے اس ناکہ بندی کی سیاسی اور اقتصادی قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ یہ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ ناکہ بندی جتنی طویل ہوتی جائے گی اس کے اتنے ہی برے اثرات تیل کی عالمی منڈیوں میں مرتب ہوتے رہیں گے۔ افراط زر میں اضافہ ہوگا اور معاشی استحکام متاثر ہو گا۔
ممکن ہے تہران یہ یقین رکھتا ہو کہ امریکہ عالمی منڈیوں کے دباؤ میں آجائے گا اور بتدریج صورت حال بہتر ہوجائے گی۔ ایران اس طرح براہ راست لڑائی میں پڑنے سے بچتے ہوئے صورت حال کو اپنے لیے آسان بنا لے گا۔ یوں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی ختم ہو جائے گی۔ اسی اثناء میں اگر بے یقینی کی فضا طول پکڑتی ہے تو کشیدگی لازماً بڑھے اور پھیلے گی۔
'غیر حل شدہ بحران اور برقرار خطرات'
جو صورت حال جاری ہے آخر کار ایسی ہی غیر حل شدہ رہتی ہے۔ تو دو مسائل کشیدگی کو جاری رکھنے کا باعث رہیں گے۔ ایک آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا معاملہ اور دوسرا ایرانی جوہری پروگرام کا تنازعہ۔ اگر یہ طے نہیں ہوتے تو یہ دونوں طرف کی سلامتی کے لیے خطرہ رہیں گے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ فوجوں کی موجودہ پوزیشن اور جنگی صورت حال جوں کی توں رہے گی اور جو ہوگا بس ایک فیز کی سطح کی چیز یقیناً عارضی ہو گی۔ خواہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی بھی آجائے مگر یہ عارضی ہوگی اور تنازعات اپنی جگہ جاری رہیں گے۔
لیکن شاید زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ موجودہ خطرے کا درست اندازہ نہ کیا جائے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر طرف فوجیں ہی فوجیں متحرک نظر آرہی ہیں۔ ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ بحری لڑائی کا ماحول ہے۔ صورت حال سے ملنے والے اشاروں کی درست تعبیر اور تاویل نہیں کی گئی تو ان حالات میں امریکہ، ایران اور اسرائیل کی جنگ کے شعلے ایک بار پھر بھڑک سکتے ہیں۔