A map showing the Strait of Hormuz and Iran is seen behind a 3D printed miniature of U.S. President Donald Trump in this illustration taken June 22, 2025. (File photo: Reuters)
آبنائے ہرمز کی جنگ، عالمی معیشت کو تباہی کے کنارے پر لے آئی
رواں ہفتہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے موسم بہار میں ہونے والے اجلاسوں کے لیے مقرر ہے۔ اسی اجلاس کے دوران عام طور پر آئی ایم ایف عالمی معیشت کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ رواں سال آئی ایم ایف نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے اس سلسلے کے اپنے جائزے کو 'عالمی معیشت جنگ کے سائے میں' کا ٹائٹل دیا ہے۔ ٹائٹل عالمی معیشت کی ساری کہانی بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔
یہ ظاہر کرتی ہے کہ سال کے آغاز پر عالمی معیشت بہتری کی نشاندہی کرنے والے ٹریک پر تھی۔ عالمی معاشی پیداوار کی پیش گوئی 3.3 فیصد کی گئی تھی۔ اس اندازے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ سطح 4.3 فیصد بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن جب سے ایران کی جنگ شروع ہوئی ہے عملا آبنائے ہرمز ایک محاصرے کی زد میں چلی گئی ہے۔ اسی آبنائے ہرمز سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل کا 20 فیصد گزرتا تھا۔ اسی طرح ایل این جی گیس کا بھی 20 فیصد حصہ اسی آبی گزر گاہ سے دنیا بھر کے ملکوں تک پہنچتا تھا۔ جبکہ نائٹروجن گیس سے بننے والی کھادوں کا 30 فیصد اورعالمی ضرورتوں کا 8 فیصد بھی یہیں سے گزرتا ہے۔
علاوہ ازیں پیٹرو کیمیکلز، ہیلیم سمیت کئی اہم قدرتی دھاتوں کی دنیا بھر کے ملکوں کو ترسیل بھی اسی آبنائے ہرمز کے مرہون منت ہے۔ مگر جنگ نے ان سب امور کو خرابی سے دوچار کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ کئی خلیجی ملکوں میں بھی انفراسٹرکچر اس جنگ کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ قطر کی ایل این جی پروڈکشن کا 17 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ پورے خطے میں انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا گیا ہے۔ توانائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی سپلائی آبنائے ہرمز میں جنگی صورت حال کے باعث اس حد تک متاثر ہوئی ہے کہ عالمی معیشت کے ہونے والے نقصان کی سطح بلند تر ہو گئی ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف کا جائزہ لحاظ ہے۔
عالمی پیداوار کی سطح 3.1 فیصد تک ہو گئی ہے۔ افراط زر کی شرح 4.4 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ یہ بہتر تصویر ہے۔ جو تصویر زیادہ متاثر ہوئی ہے اس پیداوار کی سطح 2.5 فیصد تک نیچے چلی گئی ہے۔ جبکہ افراط زر کی شرح 5.4 فیصد تک ہو گئی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز زیادہ مدت کے لیے بندش اور محاصرے کی زد میں رہتی ہے تو آئی ایم کو خدشہ ہے کہ عالمی سطح پر پیداواری شرح صرف دو 2 فیصد تک گر جائے گی۔ جبکہ افراط زر 8 فیصد کی شرح کو چھو جائے گی۔
یقینا یہ اعداد و شمار واضح طور پر عالمی معیشت پر جنگی اثرات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ معاشی پیش گوئی وقت لے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ اعداد و شمار امکانی طور پر کم از کم دو ہفتے پہلے کے لیے تھے، جب حالات برے اور خراب منظر نامے کے قریب تر تھے۔ یوں عالمی معیشت بری پیش گوئی کے قریب تر پہنچ گئی ہے۔
یہ سرخیوں والے اعداد و شمار ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک توقع کرتے ہیں کہ ترقی پذیر معیشتیں اس دولت مند ملکوں کے مقابلے میں اس جنگ سے زیادہ متاثر ہوں گی۔ جیسا کہ اصول ہی ہے کہ معاشی بدحالی سب سے پہلے کمزور اور غربت زدہ ملکوں کو اور کمزور کرتی ہے۔ وہی زیادہ مشکلات میں گھرتے ہیں۔
ہر ایک کو ایک نظر سے نہ دیکھیں: ہمیں لازما توانائی درآمد کرنے والے اور توانائی برآمد کرنے والے ملکوں کے درمیان فرق رکھنا ہوگا۔ اس لیے دیکھنا ہوگا یہ توانائی کن ملکوں سے برآمد کی جاتی ہے۔ اس معاملے میں جنوبی ایشیا کو ایک نکتے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تھائی لینڈ اور فلپائن اپنے لیے ایندھن کی بڑی مقدار اسی آبنائے ہرمز کے راستے منگواتے ہیں۔ اس لیے یہ ممالک توانائی کی قلت کی زد پر ہیں۔
انڈونیشیا کے لیے اس جنگ کے باوجود صورت حال کسی قدر بہتر ہے۔ کیونکہ انڈونیشیا افریقہ اور ملائیشیا کے راستے بھی بڑی مقدار میں ایندھن منگواتا ہے۔ کہ یہ ایل این جی کے حوالے سے ایک اہم مرکز ہے۔
فلپائن اور بعض دیگر ملک 'آسیان' پر زور دیتے ہیں کہ 'آسیان پٹرولیم سیکیورٹی ایگریمنٹ 1986' کے تحت ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 'سی ای آر ایم' کے فورم کو متحرک کیا جائے۔ افسوس کہ تمام ترقی پذیر ملکوں کے پاس یہ مواقع نہیں ہیں کہ وہ اپنے علاقے کی سطح پر ایسی تنظیمیں رکھتے ہوں یا ان کا حصہ ہوں۔ جیسا کہ 'آسیان' کی تنظیم اپنے ارکان کا بوجھ بانٹنے کے لیے دستیاب ہے۔
اس تناظر میں ہمیں مختلف ملکوں کے بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن کی صورت حال کو بھی سمجھنا ہو گا۔ کہ ان کے کھاتوں میں قرضوں کی سطح کیا ہے۔ اگر کوئی قوم زیادہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور اسے بھاری سود اور بڑھتی ہوئی شرح سود کے ساتھ ادائیگیاں بھی کرنا ہیں۔ کیونکہ افراط زر کی شرح میں ہر طرف اضافے کا ماحول ہے۔
خوراک ہر انسان اور ملک کی ضرورت: عالمی بنک کے چیف اکانومسٹ اندر میٹ گل نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس وقت 300 ملین انسانی خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ اگر جنگ کے اثرات جاری رہے تو مزید بیس فیصد انسانوں کو غذائی قلت کا سامنا بہت جلدی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کھاد کے وسیع ذخیرے موجود بھی ہیں اور ان ذخائر کا مزید بندوبست بھی کرسکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں شجرکاری کا موسم تقریبا تین ماہ بعد شروع ہونے والا ہے۔ اگر اس موقع پر کھاد مناسب نرخوں پر دستیاب نہ رہی تو اس کا نتیجہ بھی خوراک کی کمی اور افلاس میں اضافے کی صورت سامنے آئے گا۔
یہ صورت حال ہمیں ایک اہم نکتے پر لے آتی ہے کہ موجودہ خرابی کافی بڑھ سکتی ہے۔ ٹرمپ اتظامیہ نے اقوام متحدہ کے لیے فنڈنگ میں انتہائی حد تک کمی کر دی ہے۔ معاشی مسائل کی وجہ سے اب اقوام متحدہ کے خوراک پروگرام اور یو این ڈی پی جیسے اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوگی۔ اگرچہ موجودہ بحرانی صورت حال میں ان عالمی اداروں کو زیادہ کردار ادا کرنا چاہیے، مگر فنڈز کی کمی انہیں بہترکردار ادا کرنے سے روکے ہوئے ہے۔
خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اس وقت اپنے دفاعی اخراجات کو بیرون ملک ترقی کے منصوبوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یوں ترقیاتی اداروں کے عالمی سطح پر کردار سکڑتا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلامی ترقیاتی بنک اور عرب رابطہ گروپ جیسے کثیر جہتی ادارے اس سے قبل بہت فراخدلی سے ترقیاتی امداد فراہم کرتے رہے ہیں۔
ان ممالک اور اداروں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ درپیش معاشی مشکلات کے باوجود ترقی پذیر دنیا کے غریب ملکوں کے عوام کے لیے امداد کرنے کی روایت کو جاری رکھیں گے۔ یقینا یہی بہترین کام ہے۔ کہ جب لوگ محرومی کا شکار ہیں تو ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا ہے۔ بد امنی اور نقل مکانی اس منظر نامے کا نتیجہ ہے۔ ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی ایک بار پھر دوہری ناکہ بندی عالمی معیشت کے لیے بڑے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔