President Donald Trump, left, and Chinese President Xi Jinping, shake hands after their U.S.-China summit talk at Gimhae International Airport Jinping in Busan, South Korea, Thursday, Oct. 30, 2025. (AP Photo/Mark Schiefelbein)

صدر ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ ہاتھی کیسے ناچیں گے؟

کارنیلیا میئر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کے سرکاری دورے پر جا رہے ہیں۔ یہ دورہ اس سے قبل ماہ مارچ میں شیڈولڈ تھا مگر ایران میں چھیڑی گئی جنگ طویل ہو جانے کے باعث یہ دورہ ملتوی کر کے مئی کے وسط میں طے کر دیا گیا۔

یہ امر یقیناً اہم ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے لیڈر ایک دوسرے سے براہ راست ملاقات کریں گے۔ اب اتک ان دونوں رہنماؤں کے درمیان کل چھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ یہ ملاقاتیں امریکہ و چین کی سرزمین پر بھی ہوئیں اور جی 20 گروپ کے سربراہی اجلاسوں کے موقع پر بھی۔

ٹرمپ کی خواہش تھی کہ وہ ایران میں جنگ جیتتے ہی ایک فیصلہ کن فتح کے ساتھ چین جائیں۔ مگر ان کی بد قسمتی کہ ایران کی جنگ امریکی اندازوں سے زیادہ طویل ہو گئی۔

اس دورے کے لیے ٹرمپ اور چین کے صدر شی کے سامنے بہت سے ایشوز پر بات چیت متوقع ہے۔ ان میں معیشت کو درپیش چیلنج، جیو پولیٹیکل منظر نامہ، ایران جنگ کے علاوہ تائیوان ایشو بھی ان موضوعات کا اہم تر حصہ ہیں۔

جیسا کہ نایاب ارضی دھاتوں سمیت کئی معدنی وسائل کے حوالے سے چین کو امریکہ پر برتری حاصل ہے۔ یہ دھاتیں کئی ٹیکنالوجیز کے علاوہ دفاعی صنعت کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ پچھلے سال جب امریکہ نے چین کو انتہائی زیادہ ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تو چین کا رد عمل نایاب ارضی دھاتوں کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی صورت دیا تھا۔

معاشی امور پر تبادلہ خیال کے لیے امریکی صدر ٹرمپ امریکی کمپنیوں ٹیک ورلڈ، ایگزون اور بوئنگ وغیرہ کے سی ای اوز کو ہمراہ لائیں گے کہ اس اہم دورے کے موقع پر ٹیکنالوجی ایک انتہائی اہم موضوع ہ گا۔ کیونکہ پینٹاگون نے کئی کمپنیوں کو اس لیے ممنوعہ فہرست میں ڈال رکھا ہے کہ ان کمپنیوں کا چین کی فوج کے ساتھ کاروباری رابطہ تھا۔

ان میں چینی کمپنی علی بابا ، بیدو اور بی اوئی ڈی بھی شامل کی گئی تھیں۔ مگر بعد ازاں ان کے نام اس فہرست سے نکال دیے گئے تھے۔ چین کے محاذ پر میٹا کو بلاک کیا گیا۔ اس کے مصنوعی ذہانت کے سٹارٹ اپ مانوس کی ٹیکنالوجیکل گیم کو بھی یہی کہا گیا کہ یہ بنیادی طور پر اس کے سوا کچھ نہییں کہ یہ امریکہ کی جانب یک طرفہ جھکاؤ رکھتی ہے۔

ایگزون کے سربراہ کی شرکت عالمی سطح پر توانائی کے امور کی اہمیت اور دو طرفہ دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس معاملے میں دونوں کے تعلقات کی ایک خاص اہمیت ہو چکی ہے۔ امریکی کمپنی بوئنگ چین میں اپنے مفادات دیکھتی ہے۔ جہاز بنانے میں دنیا کی تیز تر ترقی کرنے والی بوئنگ کمپنی کی مارکیٹ وسیع ترہے۔

علاوہ ازیں ایران کے ساتھ امریکی جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی دشمنی کے واقعات کا تسلسل چین کے لیے بہت حساس معاملہ ہے۔ اس کی تیل سے متعلق درآمدات کو 44 فیصد حصہ اسی آبنائے ہرمز کے راستے پہنچتا ہے۔ اس تیل کا 11 فیصد براہ راست ایران سے کریدا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد تیل چین روس سے حاصل کرتا ہے، یہ روسی تیل بھی آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ اگر ایران جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو چین کو روس سے تیل کی درآمد میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

آبنائے ہرمز کی دوہری ناکہ بندی سے پہلے ایران نے پاکستان، چین اور بھارت کو تیل لانے لے جانے کی اجازت دے رکھی تھی۔ یہ سہولت دوست ملکوں کے طور پر دی گئی تھی۔ لیکن جب سے امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہے چین کو تیل کی اس راستے سے ترسیل مکمل بند ہوگئی ہے۔

امریکہ اور چین کے تعلقات کافی پیچیدہ ہیں۔ انہیں سادہ سمجھنا سادگی ہوگی۔ ایران چین کو اپنے کل تیل کا تیسرا حصہ برآمد کرتا ہے، جبکہ چینی درآمدات کا یہ محض ایک فیصد ہے۔

ایران بین الاقوامی فورم 'برکس' کا بھی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا بھی حصہ ہے۔ اس سلسلے میں چین اچھی طرح جانتا ہے کہ اسے ایران کے ساتھ خلیجی ملکوں اور امریکہ کے ساتھ توازن کیونکر بحال رکھنا ہے۔

چین سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ انتہائی سنجیدگی و عملیت پسندی کے ساتھ معاشی معاملات اور سفارتی تعلقات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اس لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کے چینی دورے کے موقع پر امریکہ اور چین دونوں کے لیے کیا اہم ہوگا اور کونسی چیز کے لیے خدشات رہیں گے۔

آبنائے ہرمز توانائی کی سیکیورٹی کے تناظر میں چین کے لیے اہم تر ہے۔ 'پی آر سی' نے اقوام متحدہ کے سمندروں سے متعلق کنونشنز اور قانون کی توثیق کر رکھی ہے۔ لیکن امریکہ اور ایران دونوں نے توثیق نہیں کی ہے۔ اس لیے ان دونوں کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی تنازعے سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ مشرقی ایشیا اور چین سے متعلق توانائی کا ستر فیصد سے زائد حصہ آبنائے ملاکہ سے ہوتے ہوئے اپنی منزلوں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے یہ حقیقت ہے کہ مفت کی راہداری چین اور دوسرے مشرقی ایشیا کے ملکوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بلکہ کسی بھی اور ملک سے زیادہ اہم ہے۔

چین کے صدر شی نے صرف ایران کی جنگ کے علاوہ عالمی نظام کے حوالے سے بھی دیگر بہت سے امور کے سلسلے میں بھی خود کو اس طرح پیش کیا ہے کہ وہ ایک مرکزی کردار کے حامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر سے بھی انہوں نے یہی کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کا قابل عمل سفارتی حال نکالنے کی کوشش کریں گے۔ نیز سپین کی وزیر اعظم میلونی کو بھی یہی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ قابل عمل راستہ اختیار کریں گے۔

یہی بات چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔ عباس عراقچی چند روز پہلے بیجنگ کے ایک غیر معمولی دورے پر آئے تھے۔ اسی دوران عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے فون پر بات کی۔

اوپر کی سطور کے بعد جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ غالب قوتیں اور کھلاڑی چاہتے ہیں کہ جنگ رک جائے اور جنگ کی عدم موجودگی میں چین امن کی پرورش کرنے والا بنے۔

اس صورتحال نے چین کو بین الاقوامی سطح پر ایک ثالث کا کردار دے دیا ہے۔ عالمی معیشت بھی بے چینی سے اس امر کی متقاضی ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو کہ اس جنگ نے دنیا کو تیل و قدرتی گیس سے محروم کر کے رکھ دیا ہے۔ حتیٰ کہ پیٹروکیمیکلز، ایلومینیئم اور کھادوں کی سپلائی بھی رک چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں افرط زر میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا۔ جبکہ عالمی سطح پر توانائی کا بہاؤ اور خوراک کی دستیابی کا تحفظ مشکل ہوجائے گا۔

آخر میں ہم تائیوان کے ایشو کی طرف آتے ہیں۔ اگر دونوں رہنماؤں نے اس امر پر کام کرنا چاہا جو دونوں کے درمیان مشترک ہے اور تجارتی و سیاسی شعبے کے اختلافات کو ختم کرلیا تو بھی تائیوان ایک اہم ایشو رہے گا۔ یہ مستقبل میں بھی امریکہ و دنیا کے لیے ایک سیاسی چیک پوائنٹ کی صورت میں قائم رہے گا۔ جو امریکہ و دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا رہے گا۔ اس ملک کی مائیکرو چپ پراسسنگ کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت رہے گی۔ چین کے لیے یہ جزیرہ ایک اٹوٹ انگ کا درجہ رکھتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان موجود بات چیت کے تہہ در تہہ موضوعات اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے یہ دورہ شاید کافی نہیں ہو گا۔