.

اسرائیلی پارلیمان میں''انتقامی عریانیت''پر پابندی کا بل منظور

عریاں ویڈیو اپ لوڈ کرنے والوں کو 5 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پارلیمان الکنیست نے ''انتقامی عریانی''پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے۔بل میں انتقامی عریانی اس صورت حال کو قراردیا گیا ہے جس میں کسی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر جنسی عریانیت پر مجبور کیا گیا ہو۔

الکنیست نے جنسی ہراسیت کے انسداد کے موجودہ بل میں ترمیم کی ہے۔اس کے تحت جنسی نوعیت کی ویڈیوز اور تصاویر کو انٹرنیٹ اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔اسرائیلی پارلیمان کے ارکان نے اس بل پر بحث کے دوران انٹرنیٹ پر عریاں ویڈیوز یا تصاویر کو اپ لوڈ کرنے کے عمل کو ''ورچوئل ریپ'' کا نام دیا تھا۔اب اس فعل پر صہیونی ریاست میں پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

الکنیست کے رکن وائیفت کریف اس بل کے محرک تھے اور انھوں نے اپنے حلقۂ نیابت میں پیش آئے واقعے کے بعد یہ بل پیش کیا تھا۔ان کے حلقہ میں ایک نوجوان دوشیزہ کے آشنا نے اپنے جنسی تعلقات کی ویڈیو موبائل اپلیکیشن پر اپ لوڈ کردی تھی اور پھر اس کو ہزاروں لوگوں کے دیکھنے کے لیے عام کردیا تھا۔

کریف نے بل کی منظوری کے بعد کہا کہ ''ورچوئل ریپ کے اس خوفناک مظہر کے خلاف جنگ کے لیے قانونی مداخلت ضروری تھی۔یہ واضح ہے کہ قانون سازی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کے پیچھے پیچھے چلتی ہے لیکن یہ بل سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی منظوری جنسی حملوں کے متاثرین کی ایک بڑی فتح ہے''۔

کنیست کی خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیٹی کی سربراہ علیزہ لاوی نے کہا کہ یہ بل انقلابی ہے۔جنسی ہراسیت کے انسداد کے بل کی پندرہ سال قبل توثیق کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے۔اس لیے ٹیکنالوجی کے میدان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق نئے قانون کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے نئے چیلنجز پیدا کردیے ہیں اور صرف قانون سازی سے اس معاملے سے نہیں نمٹا جاسکتا۔ہمیں والدین اور شعبہ تعلیم کے حکام کو بھی اس کام میں شریک کرنا ہوگا''۔

اس بل کو بعض ارکان کی جانب سے مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا اور انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی زبان تقریر کی آزادی پر قدغن لگا سکتی ہے۔اس لیے مس لاوی کے بہ قول اس بل میں ترمیم کی گئی ہے اور اس میں ان ویڈیوز کو نکال دیا گیا ہے جن میں عوام کو کوئی دلچسپی ہوسکتی ہے یا جو غلطی سے اپ لوڈ کی گئی ہوں۔