تقریبا نوے سال بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عربی 'اورکس' کو اپنے مادر وطن میں پھر سے زندگی پانے اور آزادانہ گزارنے کا موقع مل گیا ہے، یہ بڑی کامیابی سعودی عرب کو ان جنگلی بکریوں یا اورکس نامی جانوروں کے سلسلے میں ملی ہے۔
شاہ سلمان کے نام سے منسوب کیے گئے جنگلی حیات کے ادارے شاہ سلمان ریزرو کو یہ کامیابی ملی ہے جو 90 سال بعد ان خوبصرت جانوروں کو واپس مملکت میں لانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس ادارے نے ایک طرح سے ان جانوروں کو مملکت میں نئے سرے سے متعارف کرا دیا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس قدیمی اور روایتی جانورر کی نئے سرے سے افزائش نسل کے لیے انہیں قدرتی رہائش کا ماحول دیا ، یہ تجربہ کامیاب رہا۔
اس سے قبل ان عربی اورکس کی یہ نسل مختلف قسم کے دباؤ جن میں درختوں کی کمی اور ان جانوروں کے شکار میں مسلسل اضافہ اہم تھا انتہائی کم ہو گئی تھی۔ تاہم اب کئی سال سے ان کے حق واپسی کے لیے مملکت نے غیر معمولی سنجیدگی دکھائی جس سے یہ مقصد پورا ہو گیا اور اب یہ بڑی تعداد میں پھر سے اپنے روایتی علاقے میں نظر آنے لگے ہیں۔
یہ جانور اپنی خوبصورتی اور لمبے سینگوں کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے۔ اس کے چہرے پر سیاہ نشان بھی اس کی خاص نشانی بن چکے ہیں۔ یہ سبزی اور چارا کھانا پسند کرنے والا جانور ہے۔ شاہ سلمان ریزرو میں اس کی نئے سرے واپسی اور بحالی کی راہ ہموار کی ہے۔
علاقے میں جانوروں کے معدوم ہوجانے کے خطرے کو روکنے کے لیے 1990 کی دہائی میں شہزادہ سعود الفیصل مرکز برائے جنگلی حیات و تحقیق نے عربی اورکس کی افزائش کے لیے ایک پروگرام شروع کیا تھا۔
اس ضرورت کے پیش نظر 1986 میں طائف گورنریٹ میں ایک مرکز قائم کیا گیا ، جس میں 38 اورکس کا ایک ریوڑ پالنے کا آغاز کیا گیا۔
اس کے علاوہ قومی مرکز برائے جنگلی حیات نے بھی ایک پروگرام کے تحت جانوروں کے کئی گروپوں کو اس میں چھوڑ دیا۔ تاکہ انہیں قدرتی ماحول میں پھلنے پھولنے کا موقع میسر آسکے۔