برطانوی دوشیزہ کی شام میں داعش میں شمولیت
برطانوی شہری اپنے ملک کو میدان جنگ میں تبدیل کردیں: ٹویٹر پر پیغام
اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کی ایک طالبہ شام میں ہے اور وہاں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار اسلامی جنگجو گروپ میں شامل ہو کر اپنے تئیں داد شجاعت دے رہی ہے۔اس نے برطانوی مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو ''میدان جنگ'' میں تبدیل کردیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اس جہادی دوشیزہ کا نام اقصیٰ محمود ہے۔اس کی عمر بیس سال ہے اور وہ گلاسگو سے تعلق رکھتی ہے۔اسکاٹش پولیس اور سکیورٹی سروسز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اقصیٰ محمود 2013 ء میں یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر شام چلی گئی تھی اور وہاں جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہوگئی تھی۔
شام پہنچنے کے بعد اقصیٰ محمود نے کسی جنگجو سے شادی کر لی تھی۔اس کے بعد وہ ٹویٹر پر اپنی سرگرمیوں کی اطلاع دیتی رہتی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی امریکا اور برطانیہ میں کارروائیوں پر اکسا رہی ہے۔وہ ٹویٹر پر اُم لیث کے نام سے پیغامات جاری کررہی ہے۔
اس دوشیزہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ''وول وچ ،ٹیکساس اور بوسٹن وغیرہ میں اپنے بھائیوں کی مثالوں کی پیروی کریں۔آپ کو کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ عقیدے والوں کے ساتھ ہے''۔ان شہروں میں بعض مسلم جنگجوؤں نے حملے کیے تھے۔
اس نے مزید لکھا کہ ''جہاد صرف شام تک محدود نہیں ہے ،خراسان ، مشرقی افریقہ اور یمن میں بھی لڑائی جاری ہے۔ کفار کے خلاف عالمی جنگ جاری ہے''۔اس کے پروفائل پر سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے پرچم کی تصویر لگی ہوئی ہے۔اس نے مزید لکھا ہے کہ ''اگر آپ میدان جنگ میں نہیں آسکتے تو پھر خود ہی میدان جنگ بن جائیں''۔
ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ اقصیٰ محمود کے راسخ العقیدہ سخت گیرنظریات کا حامل ہونے پر اس کے خاندان کے افراد اور دوست ہکا بکا ہو کر رہ گئے تھے۔اس خاتون کےوالد پاکستان سے اسکاٹ لینڈ منتقل ہوئے تھے۔
وہ کریگ ہولم اسکول میں زیر تعلیم رہی ہے اور اس کی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ مغربی طرز کی زندگی گزارتی رہی تھی،وہ میک اپ اور اچھے کپڑوں کی دلدادہ تھی اور اپنی دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتی رہتی تھی۔
اس برطانوی دوشیزہ کی عراق اور شام میں برسرپیکار داعش میں شمولیت کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی شہریوں کے جنگ پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث کو روکنے کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بیرون ملک جانے کے خواہاں اور وہاں سے واپس آنے والے مشتبہ افراد سے پاسپورٹ بھی ضبط کیے جاسکیں گے۔بعض رپورٹس کے مطابق اس وقت قریباً پانچ سو برطانوی شہری شام اور عراق میں داعش اور دوسری جنگجو تنظیموں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔