اسلام آباد ایرانی قیادت میں تقسیم پر فکر مند ہے: عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

رائٹرز نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے دوران ایرانی قیادت کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کے اشاروں کو تشویش کے ساتھ مانیٹر کر رہا ہے۔ اس دوران اسلام آباد بحران پر قابو پانے کے لیے ثالثی کے راستے پر قائم رہنے اور مذاکرات کی دعوت دینے پر زور دے رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق دو پاکستانی سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ اسلام آباد میں قیادت متعدد اعلیٰ ایرانی عہدیداروں اور سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے موقف کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے ایران میں سیاسی اور سکیورٹی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

دونوں اہلکاروں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے موقف پاسدارانِ انقلاب کے رجحانات سے تیزی سے مختلف ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر موجودہ بحران کو سنبھالنے اور امریکہ کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے ایسا ہو رہا ہے۔

ایجنسی نے پاکستانی دفاعی تجزیہ کار محمد علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج ایران میں فیصلہ سازی کے عمل پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر اسلام آباد میں فیصلہ سازوں کے ہاں مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے۔

مسلسل ثالثی

ذرائع نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی لہر کے باعث اس غیر اعلانیہ دورے میں تاخیر ہوئی جو ایرانی وفد نے رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کا کرنا تھا جس کے بعد وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی سربراہی میں یہ وفد مقررہ وقت کے دو دن بعد بدھ کو اسلام آباد پہنچا۔ اہلکاروں کے مطابق توقع ہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی کو قابو میں لانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایک پریس بریفنگ میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اند رابی نے تمام فریقوں پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے مسلسل رابطے، مکالمے اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ ان کا ملک حالیہ ہفتوں کے دوران درپیش مشکلات کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششوں سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مایوسی ضرور ہے، لیکن ہم نے اس راستے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور اسے جاری رکھنے میں ہمارا مفاد ہے۔

پاکستانی حکام کے بیانات ایران کے اندرونی حالات کے بارے میں اسلام آباد کے جائزے کی عکاسی کر رہے ہیں، جبکہ تہران کی جانب سے رائٹرز کی اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا جس میں سیاسی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان اختلافات یا ملک کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر اس کے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں