.

دورانِ سفر سعودی خواتین کی مددگار موبائل فون ایپلی کیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کو بالعموم گھرسے باہر سفر کے دوران گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ خاندان کے کسی مرد ڈرائیور کے بغیر کار پر سفر کے لیے باہر نہیں جاسکتی ہیں کیوںکہ خود ان کے کار چلانے پر پابندی ہے۔

مگر مرد حضرات اپنی کاروباری مصروفیات یا ملازمتوں کی وجہ سے ہمہ وقت انھیں دستیاب نہیں ہوتے ہیں،پھر انھیں بچوں کو باہر لے جانے ،کسی عزیز رشتے دار کے ہاں جانے کے لیے گاڑی کی ضرورت پیش آتی ہے ۔اس صورت میں بہت سے خاندان انھیں کسی غیر مرد ڈرائیور کے ساتھ بھیجنا ناپسندیدہ خیال کرتے ہیں۔مجبوراً انھیں ٹیکسی پر سفر کرنا پڑتا ہے لیکن ٹیکسی کے لیے سڑک پر انتظار کرنا بھی تو کچھ کم تکلیف دہ نہیں ہوتا ہے۔

سعودی خواتین کو سفر کے لیے درپیش ان مشکلات کو ایک کمپنی اُوبر نے حل کردیا ہے اور وہ بھی یوں کہ خواتین اپنے زیراستعمال کسی بھی اسمارٹ فون کے ذریعے کسی بھی وقت ،کسی بھی جگہ اور کہیں بھی سفر کے لیے ڈرائیور کو گاڑی سمیت طلب کر سکتی ہیں۔اس مقصد کے لیے انھیں اپنے اسمارٹ فون پر اُوبر کی صرف ایک ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے ضرورت ہے اور یہ کسی بھی اینڈرائیڈ اور بلیک بیری وغیرہ اسمارٹ فون پر ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔

جونہی کوئی خاتون اس ایپلی کیشن کو بروئے کار لاتے ہوئے کار طلب کرنے کے لیے بٹن دبائے گی تو فوری طور پر اس کے فون پر تمام تفصیل آجائے گی کہ کون سی کار انھیں لینے کے لیے آرہی ہے،اس کا نمبر اور ماڈل کیا ہے۔اس کے ڈرائیور کا کیا نام ہے اور اس کا موبائل فون نمبر کیا ہے۔اس وقت وہ کہاں ہے اور اس کو خاتون تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟ وغیرہ۔

اس ایپلی کیشن کے اطلاق سے تمام جغرافیائی محل وقوع سامنے آجاتا ہے اور خاتون اپنے خاندان کو اس تمام تفصیل سے آگاہ کرسکتی ہے۔اس طرح قریبی عزیزواقارب کو خاتون کے گھر سے باہر سفر کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی ہے۔

اس سروس کا ایک اور بھی اہم فیچر ہے۔اگر کوئی خاتون اپنی سواری یعنی کار میں اپنا سامان یا پرس وغیرہ بھول جائے تو وہ اس کار کا سراغ لگاسکتی ہے،ڈرائیور سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرسکتی ہے اور اس طرح اس سے اپنا سامان واپس لے سکتی ہے۔عام ٹیکسی کاروں میں ایسا ممکن نہیں ہے اور ایک مرتبہ کھوجانے والا سامان کم ہی واپس ملتا ہے۔

یہ کمپنی 2009ء میں قائم کی گئی تھی اور سعودی عرب میں اس نے سب سے پہلے دارالحکومت الریاض میں اپنی سروس شروع کی تھی۔اس کے بعد جدہ اور مشرقی علاقے میں بھی اس کی سروس کا آغاز کردیا گیا تھا۔حال ہی میں اُوبر نے سعودی عرب کے تیسرے بڑے شہر الدمام میں بھی اپنی سروس کا آغاز کردیا ہے۔الدمام مشرق وسطیٰ کا دسواں بڑا شہر ہے۔

اُوبرنے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں اس کی مذکورہ ایپلی کیشن سے استفادہ کرنے والوں میں اسّی فی صد خواتین ہوتی ہیں۔یہ ایپلی کیشن مصر ،بحرین ،قطر اور اردن میں بھی کام کرتی ہے۔کسی سعودی کو ان پڑوسی ممالک کے دارالحکومتوں میں سفر کے دوران اس کو دوبارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے۔اس کوعربی سمیت مختلف زبانوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس کی زبان اسمارٹ فون میں استعمال کی جانے والی زبان کے مطابق خود کار طریقے ہی سے تبدیل ہوجاتی ہے۔