امریکی صحافی کے شام میں لاپتہ ہونے پر شام میں کیا بیتی، انٹیلی جنس دستاویزات پر مبنی رپورٹ
شام میں امریکی صحافی کو جیل بھیجنے اور اس کے لاپتہ ہو جانے کے بارے میں متضاد اطلاعات کے بعد پہلی بار انٹیلی جنس ادارے نے ٹھوس اطلاعات دی ہیں۔ امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے بارے میں یہ اطلاعات ' العربیہ' سامنے لایا ہے۔
انٹیلی جنس ادارے کی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ آسٹن ٹائس کو کئی سال قبل شام میں اغوا کر لیا گیا تھا۔ اسے شامی دارالحکومت کے نزدیک سے لاپتہ کیا گیا تھا۔
انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق اس امریکی کو اگست 2012 میں پکڑ کر بشارا لاسد رجیم نے ایک تہہ خانے میں منتقل کر دیا تھا۔ کئی سابق شامی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ صحافی کو دمشق میں سرکاری جگہ پر بند کر دیا گیا تھا۔ یہ سرکاری جیل انتہائی سیکیورٹی کی حامل سمجھی جاتی ہے۔
'بی بی سی' کو اس بارے میں اپنی ثحقیقات مکمل کرنے میں ایک سال کی مدت لگی ہے۔ اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے قرار دیا تھا کہ اسے یقین ہے کہ سابق رجیم نے اس صحافی کو قید کیا تھا۔ مگر اسد رجیم متواتر اس حقیقت کا انکار کرتی رہی۔ بلکہ مکمل لاعلمی ظاہر کرتی رہی۔
تاہم اب انٹیلیجنس دستاویزات اور بہت سے سابق حکام کی تصدیق سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ امریکی صحافی کو جیل میں کیسے رکھا گیا اور اس پر کیا بیتی۔ اس بارے میں کافی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
آسٹن ٹائس کو اس کی اکتیسویں سالگرہ کے کچھ ہی دن بعد ماہ اگست 2012 میں دمشق کے نزدیک سے غائب کیا گیا تھا۔ اس کے سات ہفتے بعد آنکھوں پر پٹی باندھ کر آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے ذریعے سامنے لایا گیا۔ اس ویڈیو میں اس کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ جبکہ کئی مسلح لوگ اس کے پیچھے دیکھے جا سکتے تھے۔ جو اسے بیان دینے پر مجبور کر رہے تھے۔
اس ویڈیو سے ایسے ظاہر کیا گیا تھا کہ اکتیس سالہ امریکی کو کسی انتہا پسند گروپ نے اغوا کیا تھا۔ امریکی حکام کا یہ احساس تھا کہ شامی رجیم نے ایسا ایک باقاعدہ سین تیار کیا ۔ تاکہ یہ انتہا پسند گروپ کی کارروائی محسوس ہو۔ مگر اس ویڈیو کے بعد کوئی بھی اطلاع سامنے نہ آسکی۔
انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق امریکی صحافی کی کمیونیکیشنز شامی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ بھی ہوتی رہی۔
دستاویز کا عنوان 'آسٹن ٹائس' رکھا گیا ہے۔ دستاویز میں شامی انٹیلی جنس سے اس کے رابطوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ روابط 'ٹاپ سیکریٹ' کے نام سے ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ ٹائس کو دمشق سے 2012 میں حراست میں لیا گیا تھا۔
سابق سینیئر انٹیلی جنس اہلکار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ آسٹن کو نیم فوجی گروپ نے دمشق کے مضافات سے حراست میں لیا تھا۔ نیز شامی اہلکار نے فروری 2013 تک امریکی صحافی کی وہاں موجودگی نے تصدیق کی ہے۔ تاہم اس دوران اسے دو مرتبہ معدہ کی تکلیف ہوئی اور اسے دونوں مرتبہ ڈاکٹر کو دکھایا گیا۔
اس کے چہرے سے خوشی اور مسکراہٹ کا پہلو مکمل غائب ہو گیا تھا۔ ایک شخص جو آسٹن ٹائس سے ملا اس نے بتایا آسٹن ٹائس کی صحت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ یہی حال باقی قیدیوں کا تھا مگر ٹائس کو باقی قیدیوں کے مقابلے میں بہتر طبی سہولیات جیل میں میسر تھیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹائس نے کئی بار جیل سے فرار ہونے کی بھی کوشش کی مگر پکڑا گیا اور دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس دوران انٹیلی جنس حکام پھر اس سے تحقیقات میں جت جاتے رہے۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد رجیم کا تختہ الٹنے کے بعد شام کی نئی حکومت نے جیلوں سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا۔ تاہم امریکی صحافی اس دوران بھی رہائی نہ پا سکا اور اس کے بارے میں ابھی تک نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔
صدر جوبائیڈن کا ٹائس کے بارے میں کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ زندہ ہے۔
ٹائس کی والدہ ڈیبرا کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔ تاہم کسی بھی قابل اعتماد ذریعے نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا ہے۔
یہ قابل ذکر بات ہے کہ شام خانہ جنگی کے برسوں میں کئی صحافیوں اور غیر ملکیوں کو غائب کیا جاتا رہا۔ شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے زمانے میں کم از کم 1 لاکھ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا.
-
شام کا سعودی عرب اور قطر کی جانب سے تنخواہوں کی امدادی رقم پراظہارِ تشکر
شام کے وزیر خزانہ محمد یسر برنیہ نے سعودی عرب اور قطر کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ...
مشرق وسطی -
"صقر" ڈرون دوران حج آگ بجھانے اور امدادی کارروائیوں کے نظام میں شامل
سعودی عرب میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے رواں سال (1446ھ) کے حج کے موقع پر ...
حج -
غزہ پر اسرائیلی حملے میں 14 فلسطینی ہلاک، زیادہ تر خواتین اور بچے شامل: ہسپتال
غزہ کی پٹی میں ایک رہائشی عمارت پر پیر کے روز اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 14 افراد ...
مشرق وسطی