.

’سفاک عاشقہ نے محبوب کا سینہ چاک کرکے دل نکال لیا‘

بنگالی فاطمہ سونالی کو سنگین جرم میں عدالت سے سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شعراء کے ہاں محبوب کے ظلم وستم پراپنا سینہ چاک کرنے کی تعبیر بہ کثرت ملتی ہے مگر بنگلہ دیش میں معاملہ الٹ ہوگیا جہاں ایک سفاک دوشیزہ نے اپنے محبوب کا سینہ چاک کرکے اسے نہ صرف موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ اس کے دل کا حجم معلوم کرنے کےلیے سینے سے دل بھی نکال لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یک طرفہ محبت کے خوفناک انجام کی یہ اسٹوری ان دنوں عالمی میڈیا میں بھی کافی مقبول ہے۔ ڈھاکہ پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ قاتلہ نے اعتراف کیا ہے کہ’ میں نے اپنے معشوق کا سینہ اس لیے چاک کردیا کہ اس نے مجھ سے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ ساتھ ہی میں جاننا چاہتی تھی کہ اس کا دل کتنا بڑا ہے؟‘۔ عدالت نے ملزمہ کو سنگین جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

پراسیکیوٹر قاضی شبیراحمد نے بتایا کہ عدالت میں پیش کی گئی لڑکی فاطمہ اختر سونالی کی عمر21 سال ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے محبوب کے موبائل فون میں ایسی ویڈیوز دیکھیں جن میں اس کے دوسری خواتین کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات کا ثبوت ملتا تھا۔ اس پر اس نے انتقام لینے کے لیے اسپتال میں ملازمت کرنے والے محبوب کو مشروب میں بے ہوشی کی 20 گولیاں کھلائیں،جب وہ بے ہوش ہوگیا تو اسے رسیوں سے باندھ کر ذبح کیا اور بعد ازاں نہایت سفاکیت کا مظاہرہ کرتے اور اس کا سینہ چیر کراس کا دل بھی نکال لیا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنا قصور تسلیم کرلیا ہے جس کے بعد کل سوموار کو جنوب مغربی شہر خولنا میں عدالت نے اسے بھرے مجمع میں سزائے موت کا حکم دیا۔ پراسیکیوٹر کا مزید کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں کسی خاتون کو پھانسی کی سزا دی جا رہی ہے۔

فاطمہ سونالی نے یہ سنگین جرم مارچ 2014ء میں کیا جس کے بعد اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ عدالت کے موجودہ فیصلے کے خلاف اسے اپیل کا بھی حق دیا گیا ہے۔ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ٹیپو سلطان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ فیصلے پرعمل درآمد کیاجاتا ہے تو فاطمہ بنگلہ دیش میں پھانسی پانے والی پہلی خاتون ہوں گی۔