پاکستانی انٹیلی جنس حکام کا ماننا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر زمینی حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ بات آج پیر کے روز جرمن نیوز ایجنسی (dpa) کو ذرائع نے بتائی۔
دو حکام نے جرمن نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے باور کرایا کہ اندرونی دباؤ اور جرنیلوں کی انتباہات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی امن معاہدے سے قبل ایرانی ساحلی علاقے کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ایک محدود زمینی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایک اہل کار نے مزید کہا کہ "فوجی تعیناتی، دستوں کی نقل و حرکت اور استعمال کی جانے والی زبان کے حوالے سے ایسے متعدد اشارے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں"۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران پر امریکی فوجی حملہ شدید خطرات کا حامل ہے، کیونکہ فوج کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا رہے گا۔
العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کو ایرانی حکام نے آگاہ کیا ہے کہ تہران نے امریکی مذاکرات کاروں سے رابطہ ختم نہیں کیا، بلکہ صرف مذاکراتی عمل کو معطل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق "ایران نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ وہ مذاکرات سے دست بردار نہیں ہوا بلکہ انہیں معطل کیا ہے"۔
انھوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ "ایران نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے مطابق مذاکرات کے تسلسل کو یقینی بنائے"۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایران "آبنائے ہرمز پر بات چیت کی بحالی، پھر منجمد اثاثوں کی واگزاری اور اس کے بعد جوہری فائل پر گفتگو کا مطالبہ کر رہا ہے"۔
یہ پاکستانی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پیر کے روز واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کے آغاز کے بعد پہلی براہ راست بات چیت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
امریکی صدر کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد نیتن یاہو کی ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ آٹھویں ملاقات ہو گی اور رواں سال فروری میں اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر مشترکہ فضائی کارروائی کے بعد یہ پہلی ملاقات ہو گی۔
نیتن یاہو نے اپنی روانگی کے وقت ایک وڈیو بیان میں کہا "ان مشکل حالات میں انتہائی عزم اور حکمت کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ ہم تمام زیر بحث امور پر بات کریں گے، جن میں سب سے پہلے ایران ہے... اور یقیناً ہمارا مقصد اپنی سکیورٹی کا تحفظ اور اپنے ارد گرد امن کے دائرے کو وسعت دینا ہے"۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مقررہ ملاقات تنازع کی سمت طے کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو گی۔
وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل نیتن یاہو کے اس موقف کے باوجود کہ ایران پر جنگ کو وسعت دینے کا فیصلہ صرف امریکی صدر کے ہاتھ میں ہے... تل ابیب کی تناؤ کے راستے میں شامل ہونے کی خواہش اور امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے پر عدم اطمینان کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
اسی دوران ایران پر جنگ کے اعلان سے چند روز قبل 11 فروری کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات ایک بار پھر سامنے آ رہی ہیں، جبکہ اسی منظر نامے کے دہرائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
-
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ہرمز میں چھے جہازوں کو واپس بھیج دیا
جہازوں نے ایرانی حکام کے غیر منظور شدہ راستوں سے گذرنے کی کوشش کی
بين الاقوامى -
آبنائے ہرمز پر عمان سے مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں ہے: ایران
ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کے ...
مشرق وسطی -
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے چین بھی متحرک
باخبر ذرائع نے اتوار کو ''العربیہ'' کو بتایا ہے کہ چین، پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری ...
بين الاقوامى