.

صدر اوباما کے بھائی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیں گے

بھائی کی کارکردگی پر تنقید ،ٹرمپ کے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی سے متعلق مؤقف کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کے سوتیلے بھائی نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ری پبلکن صدارتی امیدوار کو پسند کرتے ہیں اور اپنے بھائی کی قیادت سے خوش نہیں ہیں۔

مالک اوباما اس وقت پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ وہ امریکی شہری ہیں اور واشنگٹن میں 1985ء سے رہ رہے ہیں۔وہ پہلے مختلف فرموں کے لیے کام کرتے تھے۔اب ایک آزاد مالیاتی ماہر اور کنسلٹینٹ ہیں۔

انھوں نے کینیا کے مغرب میں واقع اپنے آبائی گاؤں کوجیلو سے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور خاص طور پر ان کے سکیورٹی امور کو ترجیح دینے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا:''ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف مجھے بھایا ہے۔میرے خیال میں وہ دل کی گہرائیوں سے بات کرتے ہیں۔وہ سیاسی طور پر خود کو درست کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ سیدھے سبھاؤ اور کسی لاگ لپٹ کے بغیر بات کرنے کے عادی ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ''ری پبلکن صدارتی امیدوار کا امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی سے متعلق مؤقف قابل فہم ہے۔یہ اور بات ہے کہ میں خود بھی مسلمان ہوں لیکن آپ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو نہیں رکھ سکتے ہیں جو محض اسلام کے نام پر دوسروں کو گولیاں مارتے پھریں اور انھیں ہلاک کریں''۔

مالک اوباما نے اپنے سوتیلے بھائی صدر اوباما کے وائٹ ہاؤس میں ریکارڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انھوں نے امریکی عوام اور اپنے آبائی خاندان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے حالانکہ 2008ء کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد ان سے امریکا اور کینیا میں بڑی توقعات وابستہ کرلی گئی تھیں۔

انھوں نے اپنے بھائی پر تنقید کے حق کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اظہار رائے کی آزادی کے تحت انھیں یہ حق حاصل ہے کیونکہ میں اپنے ذہن سے بات کرتا ہوں۔میں خود کو ایک باکس میں محض اس وجہ سے بند کرنے نہیں جارہا ہوں کہ میرا بھائی امریکا کا صدر ہے''۔

ماضی میں ان دونوں میں بڑی قُربت رہی تھی لیکن اب وہ اپنی راہیں جدا کرچکے ہیں۔مالک اوباما نے اوول آفس (وائٹ ہاؤس ،واشنگٹن) میں اپنے بھائی سے ملاقات کی تھی اور وہ براک اوباما کی شادی کے موقع پر بھی پیش پیش رہے تھے۔

یادرہے کہ براک اوباما کے امریکی صدر بننے پر کینیا میں ان کے آبائی گاؤں کوجیلو میں بے پایاں خوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔اسی گاؤں میں ان کے والد پیدا ہوئے تھے،بعد میں وہ امریکا میں ہوائی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے چلے گئے تھے اور پھر وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔

صدر اوباما نے گذشتہ سال جولائی میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی کا دورہ کیا تھا اور یہ کسی امریکی صدر کا مشرقی افریقا میں واقع اس ملک کا پہلا دورہ تھا۔اس موقع پر انھوں نے صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد کینیا میں وقفے وقفے سے آنے کا وعدہ کیا تھا۔