میری معطلی کا فیصلہ ایک بین الاقوامی سرکاری ملازم کو نشانہ بنانا ہے: کریم خان
جنسی بدسلوکی کے الزام کے بعد عالمی عدالتِ انصاف کے پراسیکیوٹر پہلی مرتبہ سامنے آگئے: العربیہ سے گفتگو
بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے اپنی معطلی کے فیصلے کو ایک بین الاقوامی سرکاری ملازم کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دے دیا ہے۔ وہ جنسی بدسلوکی کے الزام کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئے۔
کریم خان نے "العربیہ" سے گفتگو کی اور بتایا کہ تین آزاد ججوں نے ان کی بے گناہی کی تصدیق کی اور بدسلوکی کے الزامات کے کسی بھی ثبوت کی تردید کی تھی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اثر و رسوخ رکھنے والے بڑے ملکوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
امریکی سینیٹرز کی دھمکی
کریم خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے عارضی طور پر دور رہنے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی معطلی کے فیصلے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک سیاسی فیصلہ کہا۔
اپنے خلاف دائر کی گئی شکایات کے حوالے سے کریم خان نے کہا کہ اسرائیل کی نمائندگی کرنے والے برطانیہ کے وکلاء نے ان کے خلاف شکایات درج کرائیں جنہیں مسترد کر دیا گیا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکی سینیٹ کے ارکان نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اسرائیل کا تعاقب کیا تو وہ انہیں نشانہ بنائیں گے۔
بین الاقوامی ججوں کو بااثر ملکوں کی زبردستی کا سامنا
کریم خان نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں کو محض مختلف رائے رکھنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے بین الاقوامی ججوں کو بھی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ججوں کو بااثر ملکوں کے ہاتھوں زبردستی کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے خلاف تحقیقات 5 ہزار صفحات تک پہنچ گئیں اور اقوامِ متحدہ کو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے دفتر نے انہیں ان کے فرائض کی معطلی کے طریقہ کار سے آگاہ نہیں کیا۔
واضح رہے کچھ ہفتے قبل بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی ایک انتظامی باڈی نے اپنے ہی دفتر کے ایک رکن پر جنسی حملے کے الزام کے بعد پراسیکیوٹر جنرل کریم خان کا کام فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور ان کا معاملہ رکن ملکوں کی اسمبلی کو بھیج دیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ معطلی کسی پہلے سے طے شدہ فیصلے کو تشکیل نہیں دیتی۔
55 سالہ برطانوی شہری کریم خان مئی 2025 میں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے عارضی طور پر عدالت سے الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔
انہیں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے سامنے زیرِ سماعت سب سے اہم کیس سے بھی دور کر دیا گیا تھا جس کا تعلق فلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے سے ہے۔