امریکا کی ایک یونیورسٹی میں اسکالر شپ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے ایک سعودی طالب علم نے اپنے امریکی اساتذہ کے لیے مملکت کے سیاحتی ٹور کا اہتمام کیا اور اس کی اس کاوش کو میڈیا میں غیر معمولی طور پر سراہا گیا ہے۔
امریکا سے واپسی کے بعد سعودی طالب علم عارف الذیابی نے امریکن یونیورسٹی آف انڈیانا میں اپنے پروفیسرز کو سعودی معاشرے سے متعارف کرانے کی ٹھانی۔
الذیابی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کوبتایا کہ انہوں نے امریکی ریاست ’انڈیانا‘ میں پڑھانے والے اپنے 6 پروفیسرز کی میزبانی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس ریاست میں 5 سال قبل اسکالر شپ پر گیا۔ امریکا چھوڑنے کے باوجود میں سعودی عرب میں سیاحت کے خیال کو فروغ دینے اور تفریحی سرگرمیاں متعارف کرانے کے لیے فیس بک کے ذریعے اپنے اساتذہ سے رابطے میں رہا۔
سردیوں کے موسم سے لطف اٹھایا
زیابی نے مزید کہا کہ امریکی اساتذہ کو مملکت میں لانے خاص طور پر سیاحتی ویزے کھولنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مملکت میں سردیوں کے موسم سے اپنے اساتذہ کو لطف اٹھانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ میں چاہتا تھا کہ امریکی اساتذہ سعودی عرب میں ہونے والی ترقی، نشاۃ ثانیہ کا مشاہدہ کرنے، سعودی شہریوں اور غیرملکی باشندوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کےتجربے سے آشنا ہونے کےلیے میں اساتذہ کو قائل کروں۔ فی الواقعہ میں اس میں کامیاب رہا اور انہی ریاض کے سیاحتی ٹور مدعو کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے دن ریاض میں سعودی رسم و رواج، روایات اور سخاوت کو متعارف کرانے کے لیے ایک کیمپ کی میزبانی کی گئی۔ اس کے بعد مشہور اور ثقافتی ورثے والے مقامات سوق الزل، روایتی اور لوک دیہات، درعیہ، اور اہم تاریخی مقامات کا دورہ کرایا گیا۔ امریکی اساتذہ نے تاریخی قصر مصمک، قصر طویق اور نیشنل میوزیم کا وزٹ کیا۔ عارف الزیابی نے ٹور کے ابتدائی ایام میں مہمانوں کے قیام طعام کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔
امریکی ماہرین تعلیم کے دورے کا پروگرام ہوٹلوں، کیمپوں، لینڈ سیشنز، بولیوارڈ اور "ونٹر لینڈ" پر ریاض کے سیزن کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت میں عوامی مقامات کی سیر کرانا تھا۔ الریاض سے مہمان اساتذہ ٹیم کے ساتھ العلا گورنری منتقل ہوئے جہاں انہوں نےکئی دن سیر تفریح میں گزارے۔ وہاں انہیں آثار قدیمہ، جغرافیائی خطوں کے بارے میں جاننے کا موقعہ ملا۔ انہوں نے جبل الفیل، قدیم العلا، صحرائے العلا اور جبال العلا کی خوب سیر کی۔