اٹلی کے شہربولونا کے قریب ایک خاتون نے ایران میں نامناسب حجاب پہننے پر پولیس کی تحویل میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ناگہانی موت پرانوکھا احتجاج کیا ہے اور اس نےاپنے سر کے لمبے بال قینچی سے کاٹ لیے ہیں۔
متعدد ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق خواتین امینی کی موت کے خلاف احتجاج کے لیے اپنے بال کاٹنے کی ویڈیوز آن لائن شیئر کررہی ہیں۔
ٹویٹر صارف فائزہ افشاں کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ قینچی سے اپنے لمبے جُوڑے کوکاٹ رہی ہیں۔انھوں نے اس کے ساتھ اپنی پوسٹ میں کہا ہے:’’تم یہ دیکھ رہے ہو؟! ایک 22 سالہ لڑکی کو 'حجاب پولیس' نے اس لیے قتل کر دیا کیونکہ اس نے اپنا حجاب ٹھیک سے نہیں پہنا تھا! وہ پہلی نہیں تھی، اور آخری نہیں ہوگی!‘‘
اقوام متحدہ کی قائم مقام کمشنر برائے انسانی حقوق ندا النصیف نے منگل کے روز ایران میں ایک خاتون کی موت کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جوملک کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد کوما میں چلی گئی تھی۔
ایران کے صوبہ کردستان سے تعلق رکھنے والی مہسا امینی کو دارالحکومت تہران میں گذشتہ منگل کو ’’نامناسب‘‘ حجاب پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کی موت سے ایران کے متعدد شہروں میں غم و غصہ کے اظہار کے لیےاحتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
امینی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ہیں کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی تھی۔وائٹ ہاؤس نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’خواتین کے خلاف ان کی بنیادی آزادیوں کے استعمال پر تشد‘‘ کا سلسلہ ختم کرے‘‘۔