اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی پلس اب متحدہ عرب امارات میں 20 ڈالرماہانہ میں دستیاب

چیٹ جی پی ٹی نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے،اوپن اے آئی کے مطابق 4 دسمبر تک اس کے 10 لاکھ سے زیادہ صارفین تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی پلس اب متحدہ عرب امارات اور عالمی سطح پر 20 ڈالر ماہانہ میں دستیاب ہے۔

مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارم اوراوپن سورس لینگویج ماڈل کا نیا ورژن لوگوں اور کاروباری اداروں کے مصنوعی ذہانت کے ساتھ بات چیت کرنے کے طریقے میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی کوپہلی بار گذشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا،اس کے بعد سے اس نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی اور وائرل ہوگئی ، اوپن اے آئی کا اندازہ ہے کہ 4 دسمبر تک اس کے 10 لاکھ سے زیادہ صارفین تھے۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اپنے اجراء کے دو ماہ کے اندر 10 کروڑصارفین تک پہنچ گئی۔ ڈیٹا فرم سملر ویب نے دعویٰ کیا ہے کہ پلیٹ فارم کو گذشتہ ماہ 10 کروڑمنفرد صارفین نے قریباً 59 کروڑ مرتبہ وزٹ کیا تھا۔

زیادہ مانگ کی وجہ سے ، مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ کمپنی نے پلیٹ فارم کا ایک اپ گریڈ ورژن لانچ کیا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ صارفین کی درخواستوں کو عروج کے اوقات میں ترجیح دے گا، تیزردعمل کی رفتار رکھتا ہے اور ان ہی نئی خصوصیات اور بہتری تک ترجیحی رسائی فراہم کرے گا۔

اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کو ایک تحقیقی پیش نظارہ کے طور پرمتعارف کرایا تھا تاکہ سسٹم کی طاقت اور کمزوریوں کے بارے میں مزید جان سکیں اور اس کی حدود کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے صارفین کی رائے جمع کرسکیں۔اس کے بعد سے ، اس نے متعدد اپ ڈیٹس کی ہیں اور صارفین کو پیشہ ورانہ استعمال کے معاملات کی ایک صف میں قدر تلاش کرنے میں مدد کی ہے جیسے خیالات پرغور کرنا ، کوڈنگ ، مواد کا مسودہ تیار کرنا ، اور نئے موضوعات سیکھنا،وغیرہ۔

اوپن اے آئی نے اپنی ویب سائٹ پرکہا کہ کمپنی فیڈ بیک کی بنیاد پراس پیش کش کو بہتربنانے اور وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے اورزیادہ دستیابی کے لیے کم لاگت کے کاروباری منصوبوں اور ڈیٹا پیک کے لیے فعال طور پر آپشنز تلاش کر رہی ہے۔

چیٹ جی پی ٹی زبان کا ایک بڑا ماڈل ہے جو الفاظ کی ترتیب وتدوین کرکے انسان جیسا متن پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ، لیکن زیادہ ترچیٹ بوٹس کے برعکس،یہ انٹرنیٹ پر تلاش نہیں کرسکتا ہے۔اس کے بجائے،یہ متن پیدا کرنے کے لیے اندرونی عمل کا استعمال کرتا ہے۔

متعارف ہونے کے بعد سے اس کے جنون نے دیگر ٹیکنالوجی فرموں کو اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرنے پرمجبورکیا ہے۔ گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے کہا ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے اجراء کے جواب میں جلد ہی اپنے سرچ انجن کے لیے ایک چیٹ بوٹ سروس اور مزید اے آئی لانچ کرے گی جس سے کمپیوٹنگ کی ایک نئی لہرشروع ہوئی ہے۔

الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹِو سندر پِچائی نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہاکہ ان کی کمپنی صارفین کی آراء کی جانچ کرنے کے لیے بارڈ کے نام سے ایک بات چیت کرنے والی اے آئی سروس متعارف کرارہی ہے، جس کے بعد آنے والے ہفتوں میں عوامی ریلیز کی جائے گی۔

گذشتہ بدھ کو چین کے علی بابا گروپ نے کہا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی طرز کا اے آئی ٹول بھی تیار کر رہا ہے اور فی الوقت اس کی داخلی آزمائش جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں