لوہے سے فن پارے تخلیق کرنے والے معذور سعودی نوجوان سے ملیے!

عواد الشماری اپنے ماحول میں موجود کسی بھی شکل کی نقل کر سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قوت سماعت سے محروم عواد الشماری ایک حوصلہ مند سعودی نوجوان ہے جس نے آوازوں کی دنیا میں آنکھ کھولی مگر اس کی اپنی دنیا خاموش تھی۔

اس نے معذوری کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے نہ صرف اپنے لیے راستے کھوجے، بلکہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے اپنے ماحول کوخوبصورت بناتے ہیں۔ وہ لوہے سے ماڈل اور آرٹ کے نمونے تخلیق کرتے ہیں۔پیدائشی طور پر سماعت اور گویائی سےمحروم عواد کی زندگی کے ابتدائی 16 سال دور دراز صحرائی علاقوں میں گزرے۔

26 سالہ عواد 10 سال قبل حائل شہر منتقل ہوگئے تھے اور تب سے یہیں مقیم ہیں۔وہ ایک پرجوش نوجوان ہیں اور چیلنجز سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ حالات نے انھیں تعلیم حاصل کرنے سے محروم رکھا۔

ان کے رشتہ دار ابو ریتال الشمری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عواد کی صلاحیتیں 12 سال کی عمر میں ظاہر ہونے لگی تھیں اور وہ کسی بھی شے کو مجسموں اور آرٹ کے نمونوں میں ڈھال لیتے تھے۔ معذوری نے انھیں زندگی کے مختلف کام انجام دینے سے نہیں روکا۔

عواد کے بڑے بھائی عید بھی اسی بیماری کا شکار ہیں، اور وہ بھی میکانکس کا دلدادہ ہیں۔

عواد نے ڈیزائنیگ کو اپنا ذریعہ اظہار بنا لیا۔ ابو ریتال کا کہنا ہے کہ باصلاحیت نوجوان کو مناسب پزیرائی نہیں ملی جس کے باعث وہ کام جاری نہ رکھ سکا۔

عواد اپنے ماحول میں موجود کسی بھی شکل کی نقل کر سکتے ہیں، لوہے سے ایسے ماڈل بنا لیتے ہیں جن پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ وہ گاڑیوں کو دیکھ کر ان کے ماڈل بھی بناتے ہیں۔

عواد کا کہنا ہے کہ وہ موسیقار بیتھوون جیسے تخلیق کاروں کو ذہن میں لاتے ہیں، جس نے بہرے ہونے کے باوجود نویں سمفنی تخلیق کی۔اس کے علاوہ مصنفہ اور لیکچرر ہیلن کیلر ان کی پسندیدہ ہیں، جو ایک سال اور سات ماہ کی عمر میں قوتِ سماعت اور بینائی سے محروم ہو گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں