روسی فائرنگ کا نشانہ بننے کے ایک ہفتے بعد جہاز ڈوب گیا: یوکرینی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک بین الاقوامی مال بردار بحری جہاز اتوار کو یوکرین کی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ اوڈیسا کے ساحل پر ڈوب گیا جس سے ایک ہفتہ قبل یوکرین کے حکام نے کہا کہ اسے روسی افواج نے نشانہ بنایا تھا۔

یوکرین کی بندرگاہوں کی اتھارٹی نے کہا کہ گنی بساؤ کے پرچم تلے سفر کرنے والا گولڈن لیو بندرگاہ کے قریب ڈوب گیا تھا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں عملے کے نو ارکان ہلاک ہو گئے جبکہ آٹھ کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ مکئی لے کر چورنومورسک کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے جہاز کو 19 جولائی کو روسی افواج کی گولہ باری سے کافی نقصان پہنچا۔

یہ رومانیہ کی طرف جانے والے ساحل کے ساتھ ساتھ یوکرین کے زیرِ نگرانی ایک راہداری سے گذر رہا تھا۔

بندرگاہوں کی اتھارٹی نے کہا کہ جہاز کے خلاف روسی کارروائی سے "بین الاقوامی سمندری اصولوں کی خلاف ورزی" ہوئی اور عملے کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوا۔

اُس وقت اوڈیسا میں رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے ساحل سے تھوڑا دور ایک بڑے جہاز سے دھواں کے بادل اٹھتے دیکھے۔ ماسکو نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جنگ کے پانچویں سال میں روس نے حالیہ ہفتوں کے دوران جنوبی یوکرین میں گہرے پانی کی بندرگاہوں پر حملے تیز کر دیے ہیں جو ملک کے اناج اور دیگر اہم سامانِ تجارت کا انتظام سنبھالتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں