مین ہٹن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حکومتی الزامات کے تحت فرد جرم عائد کیے جانے کے مہینوں بعد یہ مقدمہ امریکہ کے لیے ایک غیر معمولی حیثیت کا اختیار کرگیا ہے۔ خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی سابق صدر پر "وفاقی جرائم" کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تاہم اس سے قبل دیگر امریکی صدور بھی گزرے ہیں جن کا مواخذہ کیا گیا یا کسی سکینڈل یا مجرمانہ شبہ کے بعد ہزیمت کا سامنا کرتے ہوئے انہیں اپنے عہدے چھوڑنے پڑے۔ ماضی میں ان میں سے کسی صدر نے بھی اپنے آپ کو ایسے قانونی خطرے میں نہیں پایا جیسے خطرے کا سامنا ٹرمپ کو ہے۔
ماضی کے وہ صدور جن کو عہدہ پر رہتے ہوئے یا برسوں کے بعد فوجداری الزامات کا سامنا کرنا پڑا ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
رچرڈ نکسن
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان میں سابق صدر رچرڈ نکسن بھی شامل ہیں۔ نکسن کو 1974 میں ایک گرینڈ جیوری نے واٹر گیٹ سکینڈل میں ایک غیر مجرمانہ سازش کار کے طور پر نامزد کیا تھا لیکن ان پر کبھی کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔
ان کے استعفیٰ نے انہیں فرد جرم سے تو دور کردیا تاہم ان پر الزامات برقرار رہے۔ واٹر گیٹ کے استغاثہ کو فوجداری مقدمہ دائر کرنے کے بارے میں تحفظات تھے۔ وہ اس بارے میں فکر مند تھے کہ آیا سابق صدر کو منصفانہ ٹرائل مل سکتا ہے یا نہیں ۔ بعد میں انہیں صدر جیرالڈ فورڈ سے معافی مل گئی۔
بل کلنٹن
اس کے علاوہ 1998 میں صدر بل کلنٹن کا ایوان نمائندگان نے مواخذہ کیا تھا۔ کلنٹن کا مواخذہ وائٹ ہاؤس کی سابق انٹرن مونیکا لیونسکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو چھپانے کی کوشش کے سلسلے میں جھوٹی گواہی دینے اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں کیا گیا تھا۔
سینیٹ نے سزا کے خلاف ووٹ دیا لیکن مجرمانہ الزامات کا خطرہ کلنٹن کی صدارت کے ان آخری گھنٹوں تک جاری رہا جب انہوں نے آزاد وکیل رابرٹ رے کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اس کے بعد اٹارنی جنرل کلنٹن کی جانب سے جھوٹی گواہی کے اعتراف، اپنے پانچ سالہ قانونی لائسنس سے دستبردار ہونے اور 25 ہزار ڈالر جرمانہ قبول کرنے کے بعد فرد جرم کی پیروی نہ کرنے پر راضی ہوگئے۔
یولیسس گرانٹ
1872 میں امریکہ کے 18 ویں صدر یولیسس گرانٹ کو عہدے پر رہتے ہوئے دارالحکومت کے ارد گرد اپنی گاڑی کو تیز رفتاری سے چلانے پر گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن انہوں نے جرمانہ ادا کیا اور عدالت نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔
ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمہ جیسی مثالیں دیگر لبرل جمہوریتوں میں بھی پیش آتی رہی ہیں۔ صرف پچھلی دہائی میں فرانس، اٹلی، اسرائیل، برازیل اور جنوبی کوریا میں موجودہ یا سابق سربراہان مملکت پر غیر قانونی مہم کی مالی اعانت، رشوت اور ٹیکس فراڈ سمیت جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ٹرمپ کی فردِ جرم سے پہلے سیاسی رہنماؤں کے خلاف امریکی قانونی کارروائیاں امریکی نائب صدور تک محدود رہی تھیں اور کسی بھی صدر پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی۔
نائب صدور
امریکی نائب صدر ایرون بر 1801 سے 1805 تک مفرور رہے۔ الیگزینڈر ہیملٹن کو ایک جنگ میں مارنے کے بعد
نیویارک اور نیو جرسی میں ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔ بعد میں انہیں 1807 میں الاباما میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور آخر بری کردیا گیا تھا۔
ایک اور امریکی نائب صدر سپیرو اگنیو نے 1973 میں میری لینڈ کی سیاست میں مبینہ رشوت لینے کی وسیع تر تحقیقات کے نتیجے میں ٹیکس چوری کے جرم کے خلاف کوئی مقابلہ نہ کرنے کی درخواست کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔