ایران مظاہرے

ایرانی صحافیہ کا دورانِ حراست جنسی استحصال کاالزام،جیل میں بھوک ہڑتال کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ سال ایران کی اخلاقی پولیس کے زیرحراست موت کے مُنھ میں جانے والی کردخاتون مہسا امینی کے والد کا انٹرویو کرنے والی صحافیہ نے الزام عاید کیا ہے کہ ان کی گرفتاری کے دوران میں انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب وہ تہران کی اوین جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔

23 سالہ نازیلا معروفیان کو امجد امینی کا انٹرویو شائع کرنے کی پاداش میں ایرانی حکام کی جانب سے بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔امجد امینی کی بیٹی مہسا امینی 16 ستمبر 2022 کو تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے تین روز بعد زیر حراست ہی ہلاک ہو گئی تھیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی حکام پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ مہسا امینی کی موت کا ایک سال مکمل ہونے پراحتجاج کو روکنے کے لیے پہلے سے ہی سخت کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نازیلا معروفیان کو حالیہ مہینوں میں چار بار گرفتار کیا جا چکا ہے اور حال ہی میں انھیں 30 اگست کو تہران میں حراست میں لیا گیا تھا اور اب وہ دارالحکومت کی بدنام زمانہ اوین جیل میں قید ہیں۔

ایران انٹرنیشنل اور ریڈیو فردا کے علاوہ کردستان ہیومن رائٹس نیٹ ورک (کے ایچ آر این) اور مرکز برائے انسانی حقوق ایران (سی ایچ آر آئی) سمیت بیرون ملک ذرائع ابلاغ کی طرف سے جاری کردہ آڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’’مجھے ایسی صورت حال میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جہاں میں بدترین حالت میں تھی‘‘۔

کرد آبادی والے ایران کے مغربی شہر سقز سے تعلق رکھنے والی معروفیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اب اپنے ساتھ جنسی زیادتی اور پولیس اسٹیشنوں اور جیلوں میں تشدد کا نشانہ بننے والی تمام خواتین کے حق میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔

انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’یہ ہڑتال میرے لیے ہے لیکن یہ ایران میں سنگین حالات میں مبتلا تمام خواتین کے لیے بھی ہے‘‘۔ یہ پیغام بظاہر ان کے اہل خانہ کو ایک فون کال کے دوران میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس ہفتے کے اوائل میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ صحافیہ کو ایران کے اسلامی نظام کے خلاف "پروپیگنڈا" کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس سے قبل جاری کردہ فوٹیج کے مطابق معروفیان نے اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کے سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حجاب کے بغیر اپنی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔

مہسا امینی کو مبیّنہ طور پر اسی ضابطہ لباس کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی موت صحت کے مسائل کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن نازیلا معروفیان کے ساتھ اپنے انٹرویو میں امجد امینی نے حکام پر الزام عاید کیا کہ وہ ان کی بیٹی کی موت کے حالات کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ایرانی حکام نے امینی کیس پر ملک کے اندر رپورٹنگ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اس خبر کو دنیا کی توجہ میں لانے میں مدد کرنے والی دو صحافیات گذشتہ سال ستمبر سے گرفتار ہیں اور اب قریباً ایک سال اوین جیل میں گزارچکی ہیں۔

نیلوفر حامدی نے ایرانی اخبار ’شرق‘ کے لیے اسپتال سے رپورٹنگ کی تھی جہاں مہسا امینی وفات سے قبل تین دن تک کوما میں رہی تھیں اور ہم میہان اخبار کی رپورٹر الہہ محمدی متوفیہ امینی کی آخری رسوم کی رپورٹنگ کے لیے ان کے آبائی شہر سقز گئی تھیں۔ان دونوں پر اب قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں مقدمہ چلا جارہا ہے جبکہ وہ اپنے خلاف ایسے الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں