امریکی اسرائیل تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے اب تک کا سب سے حساس مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ اسرائیل اب امریکی خارجہ پالیسی میں اس استثنائی مقام سے لطف اندوز نہیں رہا جس کا وہ عادی تھا۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اس بحران کی اصل جڑ نہیں ہیں بلکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جہاں امریکی ویب سائٹ "پولیٹیکو" کے مطابق اب اسرائیل کے ساتھ "امریکہ فرسٹ" کی پالیسی سے مستقل استثنا کے طور پر سلوک نہیں کیا جا رہا۔
جے ڈی وینس کے گزشتہ ہفتے کے بیانات نے اسی تبدیلی کو ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دنیا میں اسرائیل کا اب تقریبا کوئی دوست باقی نہیں بچا اور انہوں نے اسرائیلی حکومت کو دعوت دی کہ وہ اپنے واحد باقی رہ جانے والے طاقتور اتحادی یعنی امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی میں پڑنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لے۔ جے ڈی وینس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ٹرمپ پوری دنیا میں ریاست کے واحد سربراہ ہیں جو اس لمحے اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر میں اسرائیلی حکومت کا حصہ ہوتا تو میں دنیا میں اپنے پاس باقی رہ جانے والے واحد طاقتور اتحادی پر حملہ نہ کرتا۔ انہوں نے اسرائیلی رہنماؤں کو ایک براہ راست پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسرائیل میں جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ امریکہ کا صدر ہے، اسے جاگنے اور اس صورتحال کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس میں اس کا ملک رہ رہا ہے۔
مسئلہ وینس سے کہیں بڑا ہے: حکام
’’ پولیٹیکو‘‘ کی رپورٹ میں امریکی و اسرائیلی حکام اور دوطرفہ تعلقات سے باخبر افراد سمیت سات ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جے ڈی وینس ایک نئی حقیقت کا محض سیاسی چہرہ ہیں جس میں اسرائیل ایک اہم اتحادی تو بن گیا ہے لیکن اب وہ امریکی خارجہ پالیسی کی بقیہ ترجیحات پر خود بخود سبقت حاصل نہیں کرپاتا ہے۔ ایک اسرائیلی سیاسی مشیر نے کہا کہ تل ابیب کا خیال تھا کہ "امریکہ فرسٹ" کی پالیسی میں اسرائیل کے لیے ایک خصوصی استثنا شامل ہوگا لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ خیال حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اسرائیل ان تمام امور میں ایک استثنا بنا رہے جو امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں کرتا ہے۔ اور جب تصادم ہوا تو اسرائیل کی یہ سوچ سادہ لوحی تھی کہ اسے ان توقعات سے استثنا حاصل ہوگا۔
ٹرمپ اور یاہو میں سرد مہری
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ مہینوں کے دوران دونوں فریقین کے درمیان سرد مہری واضح ہو چکی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جہاں سال 2025 کے دوران پانچ بار واشنگٹن کا دورہ کیا تھا، وہاں انہوں نے رواں سال صرف ایک دورے پر ہی اکتفا کیا اور ابھی تک وائٹ ہاؤس کے دورے کی کوئی نئی تاریخیں موجود نہیں ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات سے باخبر ایک شخص نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم بدترین ممکنہ مرحلے تک پہنچ چکے ہیں، ابھی مزید مراحل باقی ہیں۔
ان اشاروں کے باوجود وائٹ ہاؤس نے تاکید کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اب بھی مضبوط ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ صدر اور نائب صدر ایک ہی موقف پر ہیں۔ اسرائیل ہمیشہ سے امریکہ کا ایک عظیم اتحادی رہا ہے اور اسرائیل کا صدر ٹرمپ سے بڑا کوئی دوست یا امن کے لیے لڑنے والا نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج "ایپک فیوری" آپریشن کے دوران ایک اہم شراکت دار تھیں۔اس آپریشن نے 38 دنوں میں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا۔
مفادات کی مطابقت پر پرانا شک
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ جے ڈی وینس کے موجودہ موقف نئے نہیں ہیں کیونکہ وہ نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی اس بات پر زور دے چکے تھے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات ہمیشہ مطابقت نہیں رکھتے اور واشنگٹن کو اسرائیل کی خاطر ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے۔ جے ڈی وینس نے سال 2024 میں کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن امریکہ کا مفاد بعض اوقات مختلف ہوگا اور ہمارا بنیادی مفاد ایران کے ساتھ جنگ میں نہ جانا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل نے برسوں تک براہ راست صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ معاملات چلانے کو ترجیح دی۔ اسرائیل یہ سمجھتا رہا کہ جے ڈی وینس کے موقف ایک ایسی رائے کی نمائندگی کرتے ہیں جسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے تاہم ایران کے ساتھ مذاکرات میں ان کے مرکزی کردار نے انتظامیہ کے اندر ان کے کہیں بڑے اثر و رسوخ کو بے نقاب کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران مفاہمت ٹرمپ انتظامیہ کے تیل کی قیمتوں کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اہداف کو پورا کرتی ہے لیکن یہ بیلسٹک میزائلوں یا ایرانی حکومت کے مستقبل سے جڑے اسرائیلی خدشات کا مداوا نہیں کرتی۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم کے حوالے سے ٹرمپ کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا ہے کیونکہ انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں نیتن یاہو کو لبنان میں اسرائیلی اقدامات پر اعتراض کرنے کی وجہ سے "پاگل" قرار دیا تھا۔ نیتن یاہو کو واشنگٹن نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے خطرہ سمجھا تھا۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے محقق ناتان ساکس نے کہا کہ اسرائیلی قیادت واشنگٹن کے ساتھ اختلاف کی موجودگی کو تو سمجھتی ہے لیکن وہ جاری تبدیلی کے حجم کا ادراک نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیادت کی سطح پر گہری تشویش پائی جاتی ہے لیکن وہ اس لمحے کی سنگینی کو کم تر سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب ایران کے ساتھ معاہدے کو براہ راست امریکی مفاد کے طور پر دیکھتی ہے۔ اسرائیل لبنان کے معاملے اور ایران کو ایک ایسا وجودی خطرہ سمجھتا ہے جسے مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے اختتام پر بتایا گیا کہ اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی آنے والے مہینوں میں دونوں فریقین کے درمیان خلیج وسیع ہو سکتی ہے۔ ایک باخبر شخص کے مطابق نیتن یاہو اسرائیلی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی جانب سے مکمل حمایت حاصل کرنے پر تکیہ کیے ہوئے تھے تاہم اب تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اس بات پر شرط لگا رہے تھے کہ ٹرمپ انتخابات سے قبل انہیں مکمل حمایت دیں گے اور یہ اب تک نہیں ہوا ہے۔