لبنانی خاتون فرح نیٹو کی ترجمان بن گئی، برطانیہ اور یو این میں کئی عہدے سنبھال چکیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے لبنانی نژاد برطانوی خاتون فرح دخل اللہ کو اتحاد کا سرکاری ترجمان مقرر کردیا۔ نیٹو کی ویب سائٹ پر بیان کیے گئے بیان کے مطابق فرح دخل اللہ اگلے مارچ سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ سٹولٹن برگ نے فرح دخل اللہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ میں فرح دخل اللہ کو نیٹو کی اگلی ترجمان کے طور پر خوش آمدید کہنے کا منتظر ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک زیادہ خطرناک دنیا میں میڈیا کے ساتھ واضح اور بروقت مواصلت اور مشغولیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

واضح رہے فرح دخل اللہ کے پاس بہت سے میڈیا اداروں کے علاوہ اقوام متحدہ، برطانیہ کی حکومت اور ایسٹرا زینیکا سمیت سرکاری اور نجی شعبوں میں مختلف عہدوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ 2010 سے لے کر 2023 تک نیٹو کی ترجمان کے طور پر کام کرنے والی اونا لینگیسکو کی جانشین بنی ہیں۔

فرح دخل اللہ نے اپنی بنیادی تعلیم لبنان میں حاصل کی اور 2004 میں انہوں نے بیروت کی سینٹ جوزف یونیورسٹی سے آڈیو ویژول آرٹس میں یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے لندن میں اپنی تعلیم مکمل کی اور 2005 میں لندن سکول آف اکنامکس سے میڈیا اور کمیونیکیشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 2009 میں کیمبرج یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں دوسری ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی۔ لنکڈ ان پر اس کے اکاؤنٹ کے مطابق فرح دخل اللہ نے پیشہ ورانہ کیرئیر کئی مہارتیں حاصل کر رکھی ہیں۔

فرح نے بطور صحافی کام کیا اور رائٹرز نیوز ایجنسی میں تین سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل کیا۔ پھر انہوں نے دمشق میں پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر کے دفتر کے اندر اقوام متحدہ کے محکمہ اطلاعات میں کام کیا۔ 2010 میں فرح نے تقریباً 4 سال تک انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں