بڑھاپے میں نظر انداز کرنے پر دادا نے پوتیوں کو میراث سے محروم کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حال ہی میں برطانوی عدالتوں میں ایک فوت ہونے والے سابق ریٹائرڈ فوجی کی عجیب وغریب وصیت پیش کی گئی۔ وصیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے لکھنے والا شخص اپنی پوتیوں سے سخت ناراض تھا اور ان کی لاپرواہی اور دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ اس نے انہیں اپنی وراثت سے محروم کر دیا تھا۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے گذری ہے۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ فریڈرک وارڈ 2020 میں 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ اپنے پیچھے نصف ملین پاؤنڈ سٹرلنگ (650,000 امریکی ڈالر) سے زیادہ کی دولت کا ترکہ چھوڑ گئے لیکن اس کی پوتیوں کو اس وقت حیرت ہوئی جب انہیں پتا چلا کہ اس اسٹیٹ میں ان کا حصہ صرف 50 برطانوی پاؤنڈ تھا، جس کا مطلب ہے کہ اس نے حقیقت میں انہیں اس دولت سے محروم کرنے دیا تھا۔

بیٹوں کے فوت ہونے کے بعد ان کی بیٹیوں نے اپنے دادا کو نظر انداز کردیا تھا اور اس کی دیکھ بھال نہیں کرتی تھیں۔ وہ بیماری میں بھی تنہائی میں رہے۔ اس لیے ان کے پاس یہ وصیت لکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہر پوتی کو صرف 50 پاؤنڈ سٹرلنگ ملے گی۔

وراثت سے محروم ہونے والی پوتیوں نے موت کے بعد عدالت کا سہارا لیا لیکن آخر کار جج نے اپنا فیصلہ سنایا کہ ریٹائرڈ فوجی جس سے اس کی پوتیاں اکثر ملنے نہیں آتی تھیں وہ انہیں اپنی وراثت سے صرف 50 پاؤنڈ چھوڑنے کی وصیت لکھ کر گیا ہے۔ لہٰذا انہیں پانچ لاکھ پاؤنڈز میں سے صرف پچاس پچاس پاؤنڈز ہی ملی گے۔

وارڈ جو 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے نے اپنے قانونی وکلاء کو بتایا تھا کہ وہ اس لیے پریشان ہیں کیونکہ ان کی پوتیوں نے ان سے ملاقات نہیں کی جب وہ پھیپھڑوں کی بیماری کی حالت میں تین بار ہسپتال میں داخل تھے تب بھی اس کے پاس نہیں آئیں۔

یہ جاننے کے بعد کہ وہ وراثت سے محروم ہیں پانچوں بہنوں نے ایک مقدمہ دائر کیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے دادا کی رقم میں سے اپنے آنجہانی والد کا حصہ ادا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے چچا اور خالہ نے ان کے دادا کو ان کے خرچ پراپنی مرضی تبدیل کرنے کے لیے "بلا جواز متاثر کیا"۔

تاہم ان کے کیس کو ہائی کورٹ کے جج جیمز برائٹ ویل نے مسترد کر دیا۔ اس نے کہا کہ مایوس دادا دادی کے لیے اپنے آخری سالوں میں ان کے ساتھ "انتہائی محدود رابطے" کی وجہ سے ایسا کرنا "مکمل طور پر عقلی" تھا۔

جج نے حالات میں 2018ء کی وصیت کو عقلی قرار دیا۔ پوتیوں نے 2015ء میں اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے دادا کو زیادہ نہیں دیکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ہسپتال میں ان سے ملاقات نہیں کی کیونکہ انہیں وہاں ان کی موجودگی کی اطلاع نہیں دی گئی تھی، لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کتنی بار ہسپتال میں داخل ہوئے تھے اور یہ بھی کہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بند ہو چکے تھے۔

پانچوں بہنوں نے اپنے دادا سے ملنے کے لیے وقتاً فوقتاً مختصر دورے کیے تھے۔

جج نے مزید کہا کہ "امکان ہے کہ بیٹے کی موت کے بعد بدلے ہوئے حالات اور اس کے بعد دعویداروں کے ساتھ محدود رابطے کے پیش نظر، دادا پوتیوں سے مایوس ہو گئے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں