نیتن یاہو نے کئی بار سکیورٹی حکام کو امریکیوں سے ملاقات کرنے سے روکا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تین امریکی اور اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے کئی مرتبہ اسرائیلی انٹیلی جنس اور سکیورٹی رہنماؤں کو امریکی حکام اور قانون سازوں سے ملاقات کرنے سے روکا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘ کے مطابق حکام نے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو ایک ایسے وقت میں امریکی سیاست دانوں اور سفارت کاروں کو اسرائیل سے ملنے والی باتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیئے ہیں جب ان کی حکومت اپنی جنگی حکمت عملی پر گہری تقسیم کا شکار ہے اور اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ جنگ سے متعلق پیغامات کو کنٹرول کرنے کے لیے نیتن یاہو کی حالیہ مہم تین ہفتے قبل اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے موساد، شن بیٹ اور انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے ڈائریکٹرز کو فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو سے ملاقات سے روکا۔

امریکی حکام اور اسرائیل میں نیتن یاہو کے کچھ ناقدین نے اس صورت حال کو اسرائیل کی انٹیلی جنس، ملٹری اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کی واضح علامات گردانا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم جنگ کو کیسے انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں اس کے متعلق مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔

ان ایجنسیوں کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ اسرائیل کو جنگ کے بعد غزہ کے لیے ایک واضح حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حماس کی شکست کے بعد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے کچھ کردار ہونا چاہیے۔

دوسری طرف اسرائیل میں کچھ سکیورٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ جنگ کے حوالے سے نیتن یاہو کی فیصلہ سازی سیاسی تحفظات پر مبنی ہے۔ یاھو کا انحصار انتہائی دائیں بازو کی ان جماعتوں پر ہے جو مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کا تختہ الٹ کر غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ امریکی حکام عام طور پر ایجنسی کے سربراہوں کو قابل اعتبار، پیشہ ورانہ اور غیر سیاسی سمجھتے ہیں۔ لیکن گزشتہ چند مہینوں کے دوران نیتن یاہو، جو موساد اور شن بیٹ کے براہ راست انچارج ہیں اور ان کا امریکی سیاست دانوں اور حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی منظوری دینا ضروری ہے، نے ان میں سے بہت سے افراد کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے نشاندہی کی کہ 7 اکتوبر کے بعد سے صرف ایک کانگریسی وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا اور موساد اور شن بیٹ کے ڈائریکٹرز سے ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ ملاقاتوں میں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے وضاحت کی کہ نیتن یاہو کے دفتر نے شن بیٹ کے رہنماؤں اور سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کے درمیان کئی ملاقاتوں کو روکا ہے۔ جن عہدیداروں سے ملنے سے روکا گیا ان میں اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے مشرقی امور باربرا لیف بھی شامل ہیں۔

واضح ہو کہ نیتن یاہو نے چند ماہ قبل وزیر خارجہ ٹونی بلنکن کو اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل ہرزی ہیلیوی سے ملاقات سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ طے یہ تھا کہ ہیلیوی بلنکن اور اسرائیلی جنگی کابینہ کے ارکان کے درمیان میٹنگ میں شامل ہوں۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ اس طرح کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ ہم پر واضح تھا کہ بی بی صرف امریکی حکومت کو ایسی معلومات حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھی جو ان کے منصوبے کے خلاف ہو۔ اہلکار نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی طرف سے لگائی گئی پابندی صرف جزوی طور پر موثر ہے کیونکہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بہت سے تعلقات ہیں جو اس طرح کی پابندی کو روکنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں