صحت : موٹاپے اور ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے… کھانے کا وقت ہی اصل کنجی ہے
میٹابولزم کو بہتر بنانے میں حیاتیاتی گھڑی اور روزانہ کیلوریز کا توازن ، کلیدی اہمیت رکھتا ہے
جرمنی میں ایک نئی تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ روزمرہ کیلوریز کو جسمانی حیاتیاتی گھڑی (باڈی کلاک) کے مطابق استعمال کرنا میٹابولزم کو بہتر بنانے کے علاوہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے سے بچاؤ میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اس حوالے سے تحقیق ابھی جاری ہے، لیکن ابتدائی نتائج غذا کے وقت اور حیاتیاتی گھڑی کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
1 - میٹابولزم کی صحت
جرمن ذیابیطس تحقیقاتی مرکز (DZD) کے ماہرین نے کھانے کے وقت اور جسم کی اندرونی گھڑی کے درمیان تعلق کو جانچا، تاکہ انسولین کی حساسیت پر اس کا اثر معلوم کیا جا سکے۔ اس سے جسم کی میٹابولک صحت کا اندازہ لگایا گیا۔
2 - تحقیق کا طریقہ
تحقیق میں 46 جڑواں افراد کی نیند، جسمانی حرکت اور خوراک کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے 5 دن تک اپنی غذا کی تفصیلات، وقت اور مقدار کے ساتھ ریکارڈ کیں۔
3 - کیلوری کے استعمال کا درمیانی وق
محققین نے ہر شریک کے لیے اس وقت کا حساب لگایا جب اُس نے دن کی 50% کیلوریز استعمال کر لی تھیں۔ اس وقت کو حیاتیاتی گھڑی کے ساتھ جوڑا گیا تاکہ اندازہ ہو سکے کہ وہ جسمانی لحاظ سے "صحیح وقت پر" کھا رہا ہے یا نہیں۔
4 - مزید شواہد کی ضرورت
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر الکا رمیش کے مطابق میٹابولزم پر حیاتیاتی گھڑی کے اثر کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ کھانے کے وقت کا اثر خاص طور پر ذیابیطس کے تناظر میں، ابھی بھی مکمل طور پر سمجھا نہیں گیا۔
5 - صبح کا حیاتیاتی وقت
نیند کا وقت اس بات کا تعین کرتا ہے کہ جسم کے لیے توانائی کے استعمال کا "مثالی وقت" کون سا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک سوتا ہے، تو اُس کے لیے صبح 11 سے 1 بجے کا وقت بہترین سمجھا جائے گا۔
6 - دیر سے کھانے کا نقصان
اگر کوئی شخص اپنی زیادہ تر کیلوریز شام یا رات کو لیتا ہے تو اُسے "دیر سے کھانے والا" سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کا کھانے کا وقت ظاہری طور پر دیر سے نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ حیاتیاتی وقت کے لحاظ سے تاخیر سے کھا رہا ہے، جو نقصان دہ ہے۔
7 - وراثتی اثرات
مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کھانے کا وقت اور نیند کا انداز (pattern) جزوی طور پر موروثی ہوتا ہے۔ متطابق جڑواں افراد کے معمولات غیر متطابق جڑواں سے زیادہ ایک جیسے پائے گئے۔
8 - انسولین کی حساسیت
جن شرکاء نے دن کے ابتدائی حصے میں زیادہ کیلوریز استعمال کیں، اُن میں انسولین کی حساسیت بہتر رہی۔ اس کے برعکس، دیر سے کھانے والے شرکاء میں حساسیت کم اور ذیابیطس کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔
9 - حیاتیاتی وقت پر غذا کی اہمیت
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ کیلوریز کو مخصوص وقت میں محدود کرنے کے بجائے، انہیں اپنی "حیاتیاتی صبح" میں رکھنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس مقصد کے لیے نیند کے اوقات کا مشاہدہ یا MCTQ جیسا سروے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ جسمانی گھڑی کے مطابق کھانے کی ترتیب بنائی جا سکے۔