ہلدی کا پانی یا ہلدی والا دودھ... صحت کے لیے کیا بہتر ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

ہلدی اپنے بے شمار صحت بخش فوائد کے باعث مشہور ہے، اور اسے عام طور پر ہلدی کے پانی یا ہلدی والے دودھ کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ گرم گائے کا دودھ ہلدی سے حاصل ہونے والے کرکومینوئیڈز (Curcuminoids) کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے،جس سے اس کے سوزش کم کرنے اور مدافعتی نظام مضبوط بنانے والے اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

اسی طرح ہلدی کا پانی جسم سے زہریلے مادّے (ٹاکسنز) نکالنے اور میٹابولزم (نظامِ اِخراج و توانائی) کو بہتر بنانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے،جبکہ ہلدی والا دودھ جو چکنائی سے بھرپور ہوتا ہے، کرکومین کے بہتر جذب (Absorption) میں مدد دیتا ہے،جس کے نتیجے میں نیند میں بہتری اور مجموعی صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہلدی نے دنیا بھر میں ایک “سپر فوڈ” (غذائی معجزہ) کے طور پر شہرت حاصل کی ہے،کیونکہ اس میں موجود فعال حیاتیاتی مرکب "کرکومین" میں طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ، سوزش ختم کرنے، جراثیم کشاور شفابخش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

جبکہ صدیوں سے ہلدی روایتی علاج کا ایک بنیادی جزو رہی ہے،جسے زخموں کے علاج، قوتِ مدافعت کے فروغ، ہاضمے کی بہتری، جوڑوں کی صحت اوردائمی سوزشوں کے خلاف مؤثر دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے،جیسا کہ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا۔

مختلف فوائد

تاہم آج کے دور میں ہلدی کو مختلف صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے،لیکن اس کے دو سب سے سادہ اور عام طریقے ہیں ہلدی کا پانی اور ہلدی والا دودھ۔

دونوں مشروبات قدرتی اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں،تاہم ان کے اثرات مختلف ہوتے ہیں کیونکہ جسم میں کرکومین کے جذب ہونے کی صلاحیت ہر صورت میں الگ ہوتی ہے۔

ہلدی کی تاثیر کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے اگر اسے کالی مرچ، صحت بخش چکنائی یا نیم گرم مشروبات کے ساتھ استعمال کیا جائے،کیونکہ یہ اجزاء جذب کی شرح کو زیادہ سے زیادہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اب اگر یہ سمجھنا ہو کہ صحت کے لیے کون سا زیادہ مفید ہے،تو ضروری ہے کہ دونوں کے فوائد، حدود، روایتی استعمال اور درست طریقۂ استعمال کا بغور مطالعہ کیا جائے۔

صحت کے اثرات

2022 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ جانچا گیا کہ ہلدی سے کرکومینوئیڈز کو مختلف سیالات (مائعات) کے ذریعے کس حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے،جن میں پانی (ٹھنڈا اور گرم دونوں) اور دودھ کی مختلف اقسام حیوانی (جانوروں کا) اور نباتاتی (پودوں سے حاصل کردہ) شامل تھیں۔

محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ گرم دودھ ہلدی سے کرکومینوئیڈز کو پانی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقدار میں جذب کرتا ہے۔عام پانی میں صرف 0 اعشاریہ55 ملی گرام فی گرام کرکومینوئیڈز حاصل ہوئے،جبکہ نیم گرم پانی میں یہ مقدار بڑھ کر تقریباً 2 اعشاریہ 42 ملی گرام فی گرام تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب، گائے کے دودھ میں کمرے کے درجہ حرارت پر ہلدی سے 6 اعشاریہ 76 سے 9 اعشاریہ 75 ملی گرام فی گرام تک کرکومینوئیڈز حاصل کیے گئے، اور جب دودھ کو گرم کیا گیا تو یہ مقدار بڑھ کر 11 اعشاریہ 7 سے 14 اعشاریہ 9 ملی گرام فی گرام تک پہنچ گئی۔ جبکہ پودوں پر مبنی دودھ جیسے بادام، ناریل اور میکڈیمیا دودھ نے انتہائی کم مقدار (0اعشاریہ1 سے 0اعشاریہ37 ملی گرام فی گرام) میں کرکومینوئیڈز جذب کیے،جس کا مطلب ہے کہ یہ دودھ ہلدی سے فعال مرکبات نکالنے میں بہت کم مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

سائنسی دلائل

علاجی اثرات جیسے سوزش میں کمی، قوتِ مدافعت میں اضافہ اور جوڑوں کے درد میں تخفیف حاصل کرنے کے لیے، ہلدی والا دودھ خصوصاً گرم گائے کا دودھ سب سے زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

جبکہ ہلکے نوعیت کے صحت بخش مقاصد جیسے جسم سے زہریلے مادّے خارج کرنا، میٹابولزم کو بہتر بنانا یا وزن برقرار رکھنا کے لیے ہلدی کا پانی مفید ثابت ہو سکتا ہے،خاص طور پر اگر وہ نیم گرم ہو اور اس میں کالی مرچ شامل کی گئی ہو،اگرچہ اس میں فعال مرکبات کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔

فوائد اور استعمال

مزید یہ کہ ہلدی کا پانی اور ہلدی والا دودھ اس سنہری مصالحے کے صحت بخش فوائد حاصل کرنے کے دو عام طریقے ہیں۔دونوں ہی سوزش کم کرنے اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات رکھتے ہیں، تاہم ان کے اثرات اور استعمال کا موزوں وقت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان دونوں کے منفرد فوائد، تیاری کے طریقے اور استعمالات کو سمجھ کرآپ اپنے روزمرہ صحت مند معمول کے لیے بہترین انتخاب کر سکتے ہیں۔

ہلدی کا پانی

اسی طرح ہلدی کا پانی نیم گرم پانی میں ہلدی ملا کر تیار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں لیموں، شہد یا کالی مرچ بھی شامل کی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی ہے۔جب اسے صبح خالی پیٹ پیا جائے تو یہ جسم کو نمی فراہم کرتا ہے اور میٹابولزم (نظامِ ہضم و توانائی) کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات جگر کے افعال کو مضبوط کرتے ہیں اور زہریلے مادّوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں،جس کی وجہ سے یہ ایک قدرتی ڈی ٹاکس (جسم صاف کرنے والا) مشروب سمجھا جاتا ہے۔

یہ نظامِ ہاضمہ کی صحت سے بھی منسلک ہے کیونکہ یہ صفراوی رَس (Bile Juice) کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے،پیٹ کے اپھارے کو کم کرتا ہے اور چکنائی کے ٹوٹنے (Fat Breakdown) کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔اس میں کیلوریز کم ہونے کی وجہ سے یہ وزن کم کرنے والوں میں خاص طور پر مقبول ہےتاہم اس میں چکنائی موجود نہیں ہوتی، اس لیے کرکومین کا جذب (Absorption) نسبتاً کم ہوتا ہے،جب تک کہ اسے کالی مرچ کے ساتھ یا کھانے کے ساتھ استعمال نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے ہلدی کا پانی ایک ہلکا صحت افزا مشروب تو ہے، مگر سوزش کے خلاف طاقتور علاج کے طور پر اس کی تاثیر محدود سمجھی جاتی ہے۔

ہلدی والا دودھ

اسی طرح ہلدی والادودھ صدیوں سے روایتی علاج کا ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔یہ دودھ کو گرم کر کے اس میں ہلدی ملانے سے تیار کیا جاتا ہے،اور بعض اوقات اس میں دار چینی، ادرک یا کالی مرچ جیسی مصالحہ جات بھی شامل کی جاتی ہیں۔

پانی کے برعکس، دودھ میں قدرتی طور پر چکنائی موجود ہوتی ہے،جو کرکومین کو بہتر طور پر گھلنے اور خون میں جذب ہونے میں مدد دیتی ہے۔یہی خصوصیت ہلدی والے دودھ کو سوزش کے علاج، جوڑوں کے درد میں کمی اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لحاظ سے زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

اسی طرح ہلدی والا دودھ عام طور پر نزلہ، زکام اور فلو کے علاج میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس مشروب کی گرمی گلے کی سوزش کو آرام پہنچاتی ہے،جبکہ ہلدی کی جراثیم کش خصوصیات جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں۔

دودھ میں پروٹین، کیلشیم اور بعض اوقات وٹامن ڈی بھی پایا جاتا ہے،جو جسم کی مضبوطی اور ہڈیوں کی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ہلدی والے دودھ کا ایک اور نمایاں فائدہ یہ ہے کہ یہ نیند میں بہتری پیدا کرتا ہے، کیونکہ گرم دودھ خود ایک قدرتی سکون آور اثر رکھتا ہے،اور جب اسے ہلدی کے ساتھ ملایا جائے تو یہ بے خوابی (اِن سونیا) اور اضطراب کے لیے ایک قدرتی علاج بن جاتا ہے۔اسی وجہ سے بہت سے لوگ ہلدی والا دودھ رات کے وقت پینا پسند کرتے ہیں۔

البتہ اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ ہلدی والادودھ کیلوریز میں زیادہ ہوتا ہے،اس لیے یہ لییکٹوز عدم برداشت (Lactose Intolerance) کے شکار افراد کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔تاہم اس کے متبادل کے طور پر پودوں سے حاصل کردہ دودھ (جیسے بادام یا ناریل کا دودھ) استعمال کیا جا سکتا ہے،لیکن چونکہ ان میں چکنائی کی مقدار مختلف ہوتی ہے،اس لیے یہ جسم میں کرکومین کے جذب پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ضرورت کے مطابق انتخاب

ہلدی کے پانی اور ہلدی والے دودھ کے درمیان انتخاب کا دارومدار صحت کے مقاصد اور طرزِ زندگی پر ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص دن کا آغاز ہلکے، تازگی بخش اور جسم کو زہریلے مادّوں سے پاک کرنے والے مشروب سے کرنا چاہتا ہے،تو ہلدی کا پانی بہترین انتخاب ہے۔یہ نظامِ ہاضمہ، میٹابولزم (توانائی کے عمل) اور جسم کی نمی کے توازن کو بہتر بناتا ہے،اور ساتھ ہی اضافی کیلوریز بھی شامل نہیں کرتا۔

جبکہ اگر مقصد سوزش میں کمی، قوتِ مدافعت میں اضافہ یا نیند میں بہتری ہو،تو ہلدی والا دودھ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ دودھ میں موجود قدرتی چکنائی جسم کو کرکومین کو بہتر طریقے سے جذب کرنے میں مدد دیتی ہے،جس سے صحت بخش فوائد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

زیادہ تر لوگ خود کو صرف ایک ہی قسم تک محدود نہیں رکھتے،بلکہ صبح کے وقت ہلدی کا پانی اور رات کو ہلدی والا دودھ پینادونوں کے بہترین فوائد سے لطف اندوز ہونے کا ایک متوازن اور مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں